محضرنامہ

by Other Authors

Page 108 of 195

محضرنامہ — Page 108

| A تفسیر آیت خاتم النبین احادیث نبویہ کی روشنی میں ا - آیت "خاتم النبین کے نزول کے بعد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے معنی کو مجھنے کیلئے ایک نہایت محکم کلید اُمت کے ہاتھ میں دی ہے۔واضح رہے کہ سنہ ہجری میں آیت خاتم التباين کا نزول ہوا اور سنہ ہجری میں حضور علیہ الصلواۃ والسلام کا صاحبزادہ ابراہیم تولد ہوا اور فوت ہوگیا اس کی وفات پر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا ) ابن ماجه كتاب الجنائز ) کہ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور سچا نبی ہوتا۔حضور کا یہ ارشاد آیت خاتم النبیین کے نزول کے بعد ہے اور اس سے خاتم النبین کی واضح تغیر ہو جاتی ہے حضور نے فرمایا کہ خاتم النبین کا لفظ صدیق نبی یا امتی نبی ہونے میں روک نہیں۔اگر حضور کے نزدیک خاتم النبیین کے معنی یہ ہوتے کہ آپ کے بعد کسی قسم کا نبی نہیں آسکتا تو حضور اس موقع پر یوں فرماتے کہ اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ بھی رہتا تب بھی نبی نہ بن سکتا کیونکہ میں خاتم النبیین ہوں مگر حضور نے یوں فرمایا کہ اگرچہ میں خاتم النبیین ہوں لیکن اگر میرا بیٹا زندہ رہتا تو وہ ضرور نبی بن جاتا۔گویا صاحبزادہ ابراہیم کے نبی بننے میں اس کی وفات روک تھی نہ کہ آیت خاتم النبیین۔ظاہر ہے کہ یہ ایسی ہی بات ہے کہ کسی ہونہار طالب علم کے فوت ہو جانے پر کہا جائے کہ اگر یہ زندہ رہتا تو ضرور ایم۔اسے کر لیتا۔یہ فقرہ اسی صورت میں کہا جائے گا جب لوگوں کے لئے ایم۔اسے پاس کرنا ممکن ہو۔اگر ایم۔اے کا درجہ ہی بند ہو چکا ہو اور کسی شخص کا ایم۔اسے بننا ممکن نہ ہو تو ہونہار طالب علم کی وفات پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اگر یہ زندہ رہتا تو ایم۔اے بن جاتا۔حدیث نبوی لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِّيقًا نَبِيًّا کی صحت پر ائمہ حدیث کا اتفاق ہے۔امام شہاب