محضرنامہ

by Other Authors

Page 104 of 195

محضرنامہ — Page 104

ہے" (رسالہ حیات سعدی ما ) اسم - حضرت مولوی محمد قاسم صاحب نانوتوی ( ۱۱۴۸ هـ - ۱۲۹۷ ھ ) تحریر فرماتے ہیں " سوجیں ہیں اس صفت کا زیادہ ظہور ہو جو خاتم القفات ہو لینی اس سے اوپر اور صفت ممکن الظهور یعینی لائق انتقال و عطائے مخلوقات ہو و شخص مخلوقات میں خاتم المراتب ہو گا اور وہی شخص سب کا سردار اور سب سے افضل ہوگا یا ( رسالہ انتصار الاسلام مثل ) ران استعمالات سے ظاہر ہے کہ اہل عرب اور دوسرے محققین علماء کے نزدیک جب بھی کسی ممدوح کو خاتم الشعراء يا خاتم الفقهاء يا خاتم المحدثين يا خاتم المفسرین کہا جاتا ہے تو اس کے معنی بہترین شاعر اس ہے بڑا فقیہہ اور سب سے بلند مرتبہ محدث یا مفتر کے ہوتے ہیں۔ان معنوں کے رو سے خاتم النبیین کے یہ معنی ہوں گے کہ حضرت محمدمصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر نبوت و رسالت کا ہر کمال ختم ہے۔آپ سے بڑا یا آپ کے برابر کوئی نبی نہیں ہوا اور نہ ہو سکتا ہے۔گویا آپ افضل الانبیاء اور سید المرسلین ہیں اور آپ سب نبیوں کے کمالات کے جامع ہیں۔خاتم انیکیتین کے ان معنوں پر علمائے امت کا اتفاق رہا ہے اور جماعت احمدیہ خاتم النبیین کے یہ منی بھی ہر پہلو سے تسلیم کرتی ہے۔چنانچہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ فرماتے ہیں :۔" میرا مذہب یہ ہے کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو الگ کیا جاتا اور کل نبی جو اس وقت تک گزرچکے تھے سب کے سب اکٹھے ہو کر وہ کام اور اصلاح کرنا چاہتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہر گز نہ کر سکتے۔ان میں وہ دل اور قوت نہ تھی جو ہمارے نبئی کو ملی تھی۔اگر کوئی کہے کہ یہ نبیوں کی معاذ اللہ سُوء ا دبی ہے تو وہ نادان مجھ پر افترا کرے گا۔یکن نبیوں کی عزت و حرمت کرنا اپنے ایمان کا جز سمجھتا ہوں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی فضیلت حل انبیاء پر میرے ایمان کا جزو اعظم اور میرے رگ و ریشہ میں ملی ہوئی بات ہے یہ میرے اختیار میں نہیں کہ اس کو نکال دوں (الحکم ۱۷ جنوری ۶۱۹۰۱ ) ار