محضرنامہ

by Other Authors

Page 103 of 195

محضرنامہ — Page 103

۲۶۔انسان خاتم الخلوقات الجمانیہ ہے۔(تفسیر کبیر جلد ۶ ص۲۲ مطبوعہ مصر) الشيخ محمد بن عبد الله خاتمة الحفاظ تھے۔(الرسائل النادره منا) ۲۱ - علامہ سعد الدین تفتازانی خاتمہ المتقین تھے۔(شرح حدیث الاربعین صل ) ۲۹ - ابن حجر العسقلانی خاتمۃ الحفاظ ہیں۔(طبقات المدرسین سرورق ) ۳۰ - مولوی مد قاسم صاحب ( ۱۱۴۸ هـ - ۱۲۹۷ھ ) کو خاتم المفسرین لکھا گیا ہے۔(اسرار قرآنی ٹائٹیل پیچ) ۳۱ - امام سیوطی خاتمته المحدثین تھے۔( ہدیۃ الشیعہ منا۲ ) ۳۲ - با دشاہ خاتم الحکام ہوتا ہے۔(حجۃ الاسلام ص۳) ۲۳ - حضرت عیسی خاتم الاصفیاء الائمۃ ہیں۔(بقیہ المتقدمين منها) -۳-۴- حضرت علی خاتم الاوصیاء تھے۔(منار الهدی مثا) ۳۵ - الشيخ الصدوق کو خاتم المحدثین لکھا ہے۔(کتاب من لا یحضره الفقيه ) ٣٦ - البوا ابو الفضل شہاب الالوسی ( ب) کو خاتم الا دباء لکھا ہے۔(سرورق روح المعانی ) ۳۷ - صاحب روح المعانی نے ایشیخ ابراہیم الکورانی کوخاتمته المتأخرین قرار دیا ہے۔(تفسیر روح المعانی جلد صفحه ۴۵۳) ۳۸ - مولوی انورشاہ صاحب کا شمیری کو خاتم المحدثین لکھا گیا ہے۔(کتاب رئیس الاحرار م ) ۶۱۲۲۳ ۶۱۱ ۳۹ - حضرت فرید الدین عطار (۵۱۳ و ۵۶۲۰ ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق کہتے ہیں سٹ خستم کرده عدل و انصافش بحق تا فراست برده از مردم سبق (منطق الطیر ) هم - جناب مولانا حالی حضرت شیخ سعدی کے متعلق لکھتے ہیں :۔" ہمارے نزدیک جس طرح طعن و ضرب اور جنگ و حرب کا بیان فردوسی پر ختم ہے۔اسی طرح اخلاق نصیحت و پند عشق و جوانی ، ظرافت و مزاح، زہد و ریا وغیرہ کا بیان شیخ پر ختم