محضرنامہ — Page 29
آپ کی بعثت کے بعد جاری رہے اور وہ کیسی انسان کو کوئی آوئی سا روحانی مقام بھی دلوا سکے۔آپ سب دوسرے نبیوں کے فیوض بند کرنے والے ہیں مگر خود آپ کے فیوض قیامت تک جاری رہیں گے اور وہ تمام روحانی فیوض اور انعام جو پہلے نبیوں کی متابعت سے انسانوں کو ملا کرتے تھے پہلے سے بڑھ کر قیامت تک آپ کے اور صرف آپ ہی کے دست کوثر سے انسانوں کو عطا ہوں گے۔غرضیکہ ہم لفظی اور حقیقی ہر معنی میں آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبین تسلیم کرتے ہیں اور بادب اس تلخ حقیقت کی طرف توجہ مبذول کروانے کی جرات کرتے ہیں کہ منکرین حدیث کے سوا ہمارے تمام مخالف فرقوں کے علماء آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو ان معنوں میں خاتم النبین تسلیم نہیں کرتے۔وہ یہ کہنے کے باوجود کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم سب نبیوں کو ختم کرنیوالے ہیں یہ متضا و ایمان رکھتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نعوذ باللہ حضرت عیسی بن مریم کو نہ تو جسمانی لحاظ سے فرما سکے نہ ہی روحانی لحاظ سے۔آپ کے ظہور کے وقت ایک ہی دوسرا نبی جسمانی لحاظ سے زندہ تھا مگر افسوس وہ آپ کی زندگی میں ختم نہ ہو سکا آپ وفات پاگئے لیکن وہ زندہ رہا۔اور اب تو وصال نہوئی پر بھی چودہ سو برس گزرنے کو آئے لیکن ہنوز وہ اسرائیلی نبی زندہ چلا آرہا ہے۔ذرا انصاف فرمائیے کہ خاتم کے جسمانی معنوں کے لحاظ سے حیات شیح کا عقیدہ رکھنے والوں کے نزدیک دونوں میں سے کون خاتم ٹھہرا۔پھر یہی علماء روحانی لحاظ سے بھی عملاً مسیح ناصری ہی کو خاتم تسلیم کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایمان رکھتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم فیض رسانی کے لحاظ سے بھی مسیح ناصری کی فیض رسانی کو ختم نہ فرماسکے۔دیر کیوں کے فیض تو پہلے ہی ختم ہو چکے تھے اور نجات کی دوسری تمام راہیں بند تھیں۔ایک مسیح ناصری زندہ تھے مگر افسوس کہ ان کے فیض کی راہ بند نہ ہو سکی۔یہی نہیں ان کی فیض رسانی کی قوت تو پہلے سے بھی بہت بڑھ گئی اور اُس وقت جبکہ امت محمدیہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم الشان قوت قدسیہ کے با وجود خطر ناک روحانی بیماریوں میں مبتلا ہوگئی اور طرح طرح کے رُوحانی عوارض نے اُسے گھیر لیا تو براہ راست آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ تو اس امت مرحومہ کو نہ بچا سکی ہاں بنی اسرائیل کے ایک رسول کے سیمی دموں نے اُسے موت کے چنگل سے نجات دلائی اور ایک نئی رُوحانی زندگی عطا کی۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - کیا صريحًا اِس سے یہ