محضرنامہ — Page 23
اور ان آیات پر غور کرنے سے یہ بات بھی صاف اور بدیہی طور پر ظاہر ہو رہی ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں زندگی کا وقف کرنا جو حقیقت اسلام ہے دو قسم پر ہے۔ایک یہ کہ خدا تعالیٰ کو ہی اپنا معبود اور مقصود اور محبوب ٹھہرایا جاوے اور اس کی عبادت اور محبت اور خون اور رجا میں کوئی دوسرا شریک باقی نہ رہے اور اُس کی تقدیس اورتسبیح اور عبادت اور تمام عبودیت کے آداب اور احکام اور اوامر اور حدود اور آسمانی قضا و قدر کے امور بہ دل و جان قبول کئے جائیں اور نہایت نیستی اور تذلل سے ان سب حکموں اور حدوں اور قانونوں اور تقدیروں کو بارا دتِ تامہ سر پر اٹھا لیا جاوے اور نیز وہ تمام پاک صداقتیں اور پاک معارف جو اُس کی وسیع قدرتوں کی معرفت کا ذریعہ اور اس کی ملکوت اور سلطنت کے علو مرتبہ کو معلوم کرنے کے لئے ایک واسطہ اور اُس کے آلاء اور نعماء کے پہچاننے کے لئے ایک قومی رہبر ہیں بخوبی معلوم کر لی جائیں۔دوسری قسم اللہ تعالیٰ کی راہ میں زندگی وقف کرنے کی یہ ہے کہ اُس کے بندوں کی خدمت اور ہمدردی اور چارہ جوئی اور بار برداری اور سچی غمخواری میں اپنی زندگی وقف کر دی جائے دوسروں کو آرام پہنچانے کے لئے دُکھ اُٹھاویں اور دوسروں کی راحت کے لئے اپنے پر کرنج گوارا کر لیں۔اس تقریر سے معلوم ہوا کہ اسلام کی حقیقت نہایت ہی اعلیٰ ہے اور کوئی انسان کبھی اس شریف لقب اہل اسلام سے حقیقی طور پر ملقب نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ اپنا سارا وجود معہ اس کی تمام قوتوں اور خواہشوں اور ارادوں کے حوالہ بھدا نہ کر دیوسے اور اپنی انانیت سے معہ اُس کے جمیع لوازم کے ہاتھ اٹھا کر اُسی کی راہ میں نہ لگ جاوے۔پس حقیقی طور پر اسی وقت کسی کو مسلمان کہا جائے گا کہ جب اس کی غافلا نہ زندگی پر ایک سخت انقلاب وارد ہو کر اُس کے نفس امارہ کا نقش ہستی مع اُس کے تمام جذبات کے ایک وفعہ مٹ جائے اور پھر اس موت کے بعد میں بل ہونے کے نئی زندگی اس میں پیدا ہو جائے اور وہ ہیں