محضرنامہ — Page 24
پاک زندگی ہو جو اُس میں بجز طاعت خالق اور ہمدردی مخلوق کے اور کچھ بھی نہ ہو۔خالق کی طاعت اس طرح سے کہ اُس کی عزت و جلال اور یگانگت ظاہر کرنے کیلئے بے عزتی اور ذلت قبول کرنے کے لئے مستعد ہو اور اس کی وحدانیت کا نام زندہ کرنے کے لئے ہزاروں موتوں کو قبول کرنے کے لئے تیار ہو اور اس کی فرمانبرداری میں ایک ہاتھ دوسرے ہاتھ کو بخوشی خاطر کاٹ سکے اور اُس کے احکام کی عظمت کا پیار اور اس کی رضا جوئی کی پیاس گناہ سے ایسی نفرت دلا وسے کہ گویا وہ کھا جانے والی ایک آگ ہے یا ہلاک کرنے والی ایک زہر ہے یا مجسم کر دینے والی ایک بجلی ہے جس سے اپنی تمام قوتوں کے ساتھ بھاگنا چاہیئے۔غرض اس کی مرضی ماننے کے لئے اپنے نفس کی سب مرضیات چھوڑ دے اور اس کے پیوند کے لئے جانکاہ زخموں سے مجروح ہونا قبول کرلے اور اس کے تعلق کا ثبوت دینے کے لئے سب نفسانی تعلقات توڑے۔اور تعلق اللہ کی خدمت اس طرح سے کہ جس قدر خلقت کی حاجات ہیں اور جس قدر مختلف وجوہ اور طرق کی راہ سے قسام ازل نے بعض کو بعض کا محتاج کر رکھا ہے۔ان تمام امور میں محض للہ اپنی حقیقی اور بے غرضانہ اور سچی ہمدردی سے جو اپنے وجود سے صادر ہو سکتی ہے ان کو نفع پہنچا وسے اور ہر یک مدد کے محتاج کو اپنی خدا دا د قوت سے مدد دے اور اُن کی دنیاو آخرت دونوں کی اصلاح کے لئے زور لگا ہے۔سویہ عظیم الشان منتهی طاعت و خدمت جو پیار اور محبت سے ملی ہوئی اور خلوص اور حقیت تامہ سے بھری ہوئی ہے یہی اسلام اور اسلام کی حقیقت اور اسلام کا لب لباب ہے جو نفس اور خلق اور ہوا اور ارادہ سے موت حاصل کرنے کے بعد ملتا ہے “ (آئینہ کمالات اسلام صفحه ۷ ۵ تا ۶۲ )