محضرنامہ — Page 167
194 معزز ارکان سمبلی کی خدمت میں ایک ہم گذارش جماعت احمدیہ پر عائد کردہ الزامات کا مختصر جائزہ لینے کے بعد معتز زارکان اسمبلی کی خدمت میں نہایت دردمند دل کے ساتھ ہم یا انتباہ کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ مذہب کے نام پر پاکستان کے مسلمانوں کو باہم لڑانے اور صفحہ ہستی سے مٹانے کی ایک دیرینہ سازشھے چل رہی ہے جس کا انکشاف بزم ثقافت اسلامیہ کے صدر خلیفہ عبدالحکیم صاحب نے درج ذیل الفاظ میں مدتوں قبل کر رکھا ہے۔لکھتے ہیں :- پاکستان کی ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے مجھ سے حال ہی میں بیان کیا کہ ایک ملائے اعظم اور عالم مقتدر سے جو کچھ عرصہ ہوا بہت تذبذب اور سوچ بچار کے بعد ہجرت کر کے پاکستان آگئے ہیں، میں نے ایک اسلامی فرقے کے متعلق دریافت کیا انہوں نے فتوی دیا کہ ان میں جو غالی ہیں وہ واجب القتل ہیں اور جو غالی نہیں وہ واجب التعزیر ہیں۔ایک اور فرقے کی نسبت پوچھا جس میں کروڑ پتی تاجر بہت ہیں۔فرمایا کہ وہ سب واجب القتل ہیں۔یہی عالم ان تین آیتیں علماء میں پیش پیش اور کرتا دھرتا تھے جنہوں نے اپنے اسلامی مجوزہ دستور میں یہ لازمی قرار دیا کہ ہر اسلامی فرقے کو تسلیم کر لیا جائے سوائے ایک کے جس کو اسلام سے خارج سمجھا جائے۔ہیں تو وہ بھی واجب القتل مگر اس وقت علی الاعلان کہنے کی بات نہیں موقع آئے گا تو دیکھا جائے گا۔انہیں میں سے ایک دوسرے سربراہ عالیم دین نے فرمایا کہ ابھی تو ہم نے جہاد فی سبیل اللہ ایک فرقے کے خلاف شروع کیا ہے اس میں کامیابی کے بعد انشاء اللہ دوسروں کی خبر دے جائے گھے" اقبال اور ملا از ڈاکٹر خلیف عبدالحکیم ایم۔اسے اپی۔ایچ ڈی ما یکے از مطبوعات بزمی اقبال لاہور )