محضرنامہ — Page 6
پس ایسی اسمبلی کو یہ حق کیسے حاصل ہو سکتا ہے کہ وہ کسی فرد کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ اس کا مذہب کیا ہے ؟ یا کسی ایک عقیدہ کے بارے میں یہ فیصلہ کرے کہ فلاں عقیدہ کی رو سے فلاں شخص مسلمان رہ سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر کیسی اسمبلی کی اکثریت کو محض اس بناء پر کسی فرقہ یا جماعت کے مذہب کا فیصلہ کرنے کا مجاز قرار دیا جائے کہ وہ ملک کی اکثریت کی نمائندہ ہے تو یہ موقف بھی نہ عقلاً قابل قبول ہے نہ فطرتا نہ مذہنیا۔اس قسم کے امور خود جمہوری اصولوں کے مطابق ہی دُنیا بھر میں جمہوریت کے دائرہ اختیار سے باہر قرار دئیے جاتے ہیں۔اسی طرح تاریخ مذہب کی رو سے کسی عہد کی اکثریت کا یہ حق کبھی تسلیم نہیں کیا گیا کہ وہ کسی کے مذہب کے تعلق کوئی فیصلہ دے اگر یہ اصول تسلیم کر لیا جائے تو نعوذ باللہ دنیا کے تمام انبیاء علیہم السّلام اور ان کی جماعتوں کے متعلق ان کے عہد کی اکثریت کے فیصلے قبول کرنے پڑیں گے۔ظاہر ہے کہ یہ ظالمانہ تو ہے جسے دنیا کے ہر مذہب کا پیرو کار بلا توقف ٹھکرا دے گا۔قرآن کریم اور ارشادات نبوی کا واضح ثبوت و تصور قرآن کریم اور ارشادات نبوی کی رو سے بھی کسی کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ جبڑا کسی کا مذہب تبدیل کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا لا اكراة في الدين ( البقرہ : ۲۵۶) یعنی دین کے معاملہ میں کسی قسم کا جبر (جائز) نہیں اگر جسمانی ایذا رسانی کے ذریعے زبر دستی کسی کا مذہب تبدیل کیا گیا ہو جبکہ الا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مطمي بالايمان ( النحل : ۱۰۹) دل حسب سابق ایمان پر قائم ہو تو ایسا طریق بھی لا اکراہ فی الدین کی تعلیم کے منافی ہے۔اور زبر دستی کسی مسلمان کو غیرمسلم یا ہندو کومسلم قرار دینا بھی جبکہ اول الذکر اسلام پر شرح صدر رکھتا ہوا اور مؤخر الذکر ہندو مذہب پر تویہ بھی آیت لا اكترات في الدين کی نا فرمانی میں داخل ہوگا۔اسکی مزید تائید آیت وَلَا تَقُولُوا لِمَن القَى إِلَيْكُمُ السَّلَمَ لَسْتَ مُؤْمِنَّا ( النساء : ۹۴) کر رہی ہے جس کے معنے یہ ہیں کہجو تمہیں مسلمانوں کی طرح " السلام علیکم کہے اُسے یہ کہنے کا تمہیں کوئی حتی نہیں کہ تو مومن نہیں۔آنحضور صلی الہ علیہ وسلم کا واضح فرمان یہی ہے کہ جو شخص توحید باری تعالیٰ کا اقرار کرے اس پر یہ الزام