محضرنامہ — Page 96
44 صدیقوں کے ساتھ ہوں گے مگر صدیقوں میں شامل نہیں ہوں گے شہیدوں کے ساتھ ہوں گے لیکن شہیدوں میں شامل نہیں ہوں گے۔اور صالحین کے ساتھ ہوں گے لیکن صالحین میں شامل نہیں ہوں گے۔گویا ان معنوں کی رو سے امت محمدیہ صرف نبوت سے ہی محروم نہیں ہوئی بلکہ صدیقیت سے بھی محروم ہوگئی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جویہ فرمایا تھا کہ ابوبکر صدیق ہے وہ نعوذ باللہ غلط ہے۔وہ شہداء کے درجہ سے بھی محروم ہو گئی اور قرآن کریم میں جو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم شہداء کے مقام پر ہیں وہ بھی غلط ہے۔(شهداء علی الناس ( البقرة (٤) اور صالحین میں بھی اس امت کا کوئی آدمی داخل نہیں ہوتا اور جو یہ خیال ہے کہ امت محمدیہ میں بہت سے صلحاء گزرے ہیں یہ بھی بالکل غلط ہے نعوذ باللہ۔کیا کوئی عقلمند آدمی جس کو قرآن اور حدیث پر عبور ہو ان معنوں کو مان سکتا ہے ؟ معر کے معنی ساتھ کے نہیں ہوتے مکہ کے معنی شمولیت کے بھی ہوتے ہیں چنانچہ قرآن کریم میں مومنوں کو یہ دعا سکھلائی گئی ہے : تَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ ( ال عمران ع ) اسے اللہ ہم کو ابرار کے ساتھ موت دے۔اور ہرمسلمان اس کے یہی معنی کرتا ہے کہ اے اللہ مجھے ابرار میں شامل کر کے موت دے یہ معنی کوئی نہیں کرتا کہ یا اللہ میں دن کوئی نیک آدمی مرے اُسی دن میں بھی مر جاؤں۔اسی طرح قرآن کریم میں ہے :۔اِنَّ الْمُنْفِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ وَلَنْ تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا هُ إِلَّا الَّذِينَ ۲۱ و النساء ع ) تابُوا وَ اَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَاخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ فَأُولَبِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ وَ سَونَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ اَجْرًا عَظِيمًا 0 یعنی منافق جہنم کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے اور تو کسی کو ان کا مددگار نہ دیکھے گا۔ہاں جو تو بہ کرے اور اصلاح کرے اور خدا تعالیٰ کی تعلیم کو مضبوطی سے پکڑے اور خدا تعالے