محضرنامہ

by Other Authors

Page 97 of 195

محضرنامہ — Page 97

94 کے لئے اپنی اطاعت مخصوص کرے تو وہ مومنوں میں شامل کئے جائیں گے اور اللہ تعالیٰ جلد مومنوں کو بہت بڑا اجر دے گا۔اس جگہ " مَعَ الْمُؤْمِنِينَ" کے الفاظ ہیں مگر مَعَ مِن کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اسی طرح سورۃ الحجر ع میں آیا ہے :۔مَالَكَ الَّا تَكُونَ مَعَ السُّجِدِينَ۔اسے ابلیس با کیوں تو سجدہ کرنے والوں کے ساتھ نہیں ہوا۔مگر سورة الاعراف میں ہے لَمْ يَكُنْ مِنَ الجِدِينَ ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ تھا۔پس مع قرآن کریم میں "من" کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور قرآن کریم کی مشہور گفت مفردات القرآن مصنفہ امام راغب میں بھی لکھا ہے :۔وَقَوْلُهُ فَاكَتَبْنَا مَعَ الشَّهِدِينَ ، أَى اجْعَلْنَا فِي زُمْرَتِهِمْ إِشَارَةٌ إِلَى قَوْلِهِ فَا وَلَيْكَ مَعَ الَّذِينَ الْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ - مفردات راغب صفحه ۴۳۵ زیر لفظ كتب ) یعنی فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّهِدِین میں " مع " کے یہ معنی ہیں کہ ہم کو زمرہ شاہدین میں داخل فرما جس طرح کہ آیت فَأُولَبِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِیں مَعَ کے معنی یہ ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے منم علیم کے زمرہ میں شامل ہوں گے۔نیز تفسیر بحر محیط میں امام راغب کے اس قول کی مزید تشریح ان الفاظ میں کی گئی ہے :۔قَالَ الرَّاغِبُ مِمَّنْ أَنْعَمَ اللهُ عَلَيْهِمْ مِنَ الْفَرَقِ الْأَرْبَعِ فِي الْمَنْزِلَةِ وَالثَّوَابِ النَّبِيَّ بِالنَّبِيِّ وَالصِّدِّيقَ بِالصِّدِّيقِ وَالشَّهِيدَ بِالشَّهِيدِ وَالصَّالِحَ بِالصَّالِحِ۔(تفسیر بحر محیط جلد ۲ صفحہ ۳۸۷ مطبوعہ مصر ) یعنی امام راغب کے نزدیک اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے مقام اور مرتبہ کے لحاظ سے نبیوں، صدیقوں ،شہیدوں اور صالحین میں شامل