محضرنامہ — Page 94
۹۴ وہ اللہ کے رسول ہیں اور آئندہ ان کے بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔تو یہ آیت بالکل بے معنی ہو جاتی ہے اور سیاق و سباق سے اس کا کوئی تعلق نہیں رہتا اور کفار کا وہ اعتراض جس کا سورۃ کوثر میں ذکر کیا گیا ہے پختہ ہو جاتا ہے۔" آیت تمام نبیین کی تفسیر قرآن مجید کی دوسری آیات کی رو سے قرآن عظیم ایک کامل و مکمل کتاب ہے جس کا اعجاز یہ ہے کہ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے منفرد مقام ختم نبوت ہی کا ذکر نہیں کیا بلکہ متعد دجگہوں پر اس کی تفسیر پر بھی روشنی ڈالی ہے۔اس سلسلہ میں ہم قرآن شریف کی مندرجہ ذیل آیات پیش کرتے ہیں :- 1 - سورۃ الحج میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- اللهُ يَصْطَفِي مِنَ الْمَلَئِكَةِ رُسُلًا وَمِنَ النَّاسِ إِنَّ اللَّهَ سَمِيرٌ بَصِيرُ (الحج) ) اللہ تعالیٰ فرشتوں اور انسانوں میں سے کچھ افراد کو رسول بنانے کے لئے چن لیتا ہے۔اللہ تعالیٰ یقیناً دعاؤں کو سنتا اور حالات کو دیکھتا ہے۔اس آیت سے پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطبین کا ذکر ہے۔آپ سے پہلے کے لوگوں کا ذکر نہیں ہے اور اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالی ملائکہ اور انسانوں میں سے رسول چنتا ہے اور رفتار ہیگا یقینا اللہ تعالیٰ سننے والا اور دیکھنے والا ہے۔اس آیت سے صاف ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یعنی آپ کے زمانہ نبوت ہیں اور انسان بھی خدا تعالیٰ کی طرف سے رسول کا نام پانے والے کھڑے ہوں گے۔۲۔سورۂ فاتحہ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو دعا سکھلائی ہے :۔اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ یا اللہ تو ہمیں سیدھا راستہ دکھا۔ان لوگوں کا راستہ جن پر تیرے انعام ہوئے ہیں۔