محضرنامہ — Page 93
۹۳ آتا ہے " كَانَ اللهُ عَزِيزاً حكيمان (سورہ نساء) یعنی اللّہ تعالی عزیز حکیم تھا، ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔اس اعلان پر قدر تا لوگوں کے دلوں پر ایک اور شبہ پیدا ہونا تھا کہ مکہ میں تو سورۃ کوثر کے ذریعہ یہ اعلان کیا گیا تھا کہ محمدرسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے دشمن تو اولاد نرینہ سے محروم رہیں گے مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وسلم) محروم نہیں رہیں گے لیکن اب سالہا سال کے بعد مدینہ میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) نہ اب کیسی بالغ مرد کے باپ ہیں نہ آئندہ ہوں گے تو اس کے یہ معنے ہوئے کہ سورۃ کوثر والی پیشگوئی (نعوذ باللہ) جھوٹی نکلی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت مشکوک اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلكِن رَسُولَ اللهِ وَخَاتَمَ النَّبِینَ یعنی ہمارے اِس اعلان سے لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوا ہے کہ یہ اعلان تو (نعوذ باللہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے جھوٹا ہونے پر دلالت کرتا ہے لیکن اس اعلان سے یہ نتیجہ نکالناغلط ہے۔با وجود اِس اعلان کے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں بلکہ خاتم النبیین ہیں یعنی نبیوں کی عمر میں پچھلے نبیوں کے لئے بطور زینت کے ہیں اور آئندہ کوئی شخص نبوت کے مقام پر فائز نہیں ہوسکتا جب تک کہ مدرسو اللہ دصلی اللہ علیہ وسلم) کی فہر س پر ن لگی ہو۔ایسا شخص آپ کا روحانی بیٹا ہوگا اور ایک طرف سے ایسے روحانی بیٹوں کے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی اُمت میں پیدا ہونے سے اور دوسری طرف اکا بر میگہ کی اولاد کے مسلمان ہو جانے سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ سورۃ کوثر میںجو کچھ بتایا گیا تھا وہ ٹھیک تھا۔ابوجہل، عاص اور ولید کی اولا د ختم کی جائے گی اور وہ اولاد اپنے آپ کو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) سے منسوب کر دے گی اور آپ کی رُوحانی اولاد ہمیشہ جاری رہے گی اور قیامت تک ان میں ایسے مقام پر لوگ فائز ہوتے رہیں گے جس مقام پر کوئی عوت کبھی فائز نہیں ہوسکتی لینی نبوت کا مقام بوصرف مردوں کے لئے مخصوص ہے۔پس سورۃ کوثر کو سورہ احزاب کے سامنے رکھ کر ان معنوں کے سوا اور کوئی معنے ہو ہی نہیں سکتے۔اگر خاتم النبیین کے یہ معنے کئے جائیں کہ محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) تم میں سے کسی بالغ مرد کے باپ نہیں لیکن