ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 36 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 36

چند دن میں یہ مسجد تعمیر ہوگئی۔آپ اس مسجد سے بہت محبت کرتے تھے مدینہ جانے کے بعد ہر شنبہ قبا تشریف لاتے تھے کبھی پیدل اور کبھی سواری پر اور اس مسجد میں دو رکعت نفل ادا فرماتے۔( بخاری جلد اول صفحہ 482 حدیث 1114 باب 753) آنحضور صلی اللہ تم کو نماز سے بہت محبت تھی آپ فرمایا کرتے تھے کہ نماز مومن کی معراج ہے آپ اسلام قبول کرنے والوں کو نماز باجماعت کی بے حد تلقین فرماتے۔نماز مکہ میں فرض ہوگئی تھی۔ہجرت کے کچھ عرصے بعد اللہ تعالیٰ نے نماز کی رکعات متعین فرما دیں جو مکہ والی نماز سے زیادہ تھیں۔فجر اور مغرب میں پہلے کی طرف دو رکعات اور تین رکعات فرض ہی تھے ظہر عصر اور عشاء میں دو کی بجائے چار رکعات فرض مقرر فرمائے۔البتہ سفر کے دوران یہ سہولت رکھی کہ مغرب کے علاوہ سب نمازوں میں دو دو رکعات فرض ادا کئے جائیں۔اسی طرح آپ نے نوافل پڑھنے پر بھی زورد یا نماز تہجد سے تو آپ کو اسقدر پیار تھا کہ پابندی سے ادا کرتے اور لمبی لمبی سورتیں پڑھتے اور دیر تک دعائیں کرتے حتی کہ آپ کے پاؤں سوج جایا کرتے۔قبا میں آپ کا چند دن قیام رہا بعض روایتوں میں چار دن اور بعض میں دس دن بھی مذکور ہے۔یہیں قیام کے دوران حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی مکہ والوں کو اُن کی امانتیں لوٹا کر جس میں تین دن لگ گئے سفر کر کے قبا پہنچے اور آنحضرت سالی یہ اہم سے آملے۔اب قبا سے مدینہ روانگی کا دن آیا آپ اپنی اونٹنی القصوئی پر سوار ہوئے آپ کے ساتھ آپ کے یار غار حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سوار ہوئے مگر اب یہ سوار دو ہی نہیں تھے بلکہ بہت سے لوگ اس قافلے میں شامل ہو گئے تھے کچھ اپنی سواریوں پر تھے کچھ پیدل ہی ساتھ ہو لئے قافلہ آہستہ آہستہ آگے بڑھنا شروع ہوا راستے میں جمعہ کا وقت آگیا آنحضرت الینی ای ایم نے بنی سالم بن عوف کے محلہ میں ٹھہر کر نماز جمعہ ادا فرمائی۔اس سے پہلے نماز جمعہ کا 36