ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 37 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 37

آغاز تو ہو چکا تھا مگر یہ وہ نماز جمعہ تھی جو آنحضرت سلیم نے پڑھائی یہ جمعہ 24 ستمبر 622 ء مطابق 11 ربیع الاول 1ھ کو پڑھا گیا۔جمعہ کی نماز میں سو (100) احباب شامل ہوئے۔(طبقات ابن سعد اخبار النبی جلد اول صفحہ 302) آپ نے خطبہ میں اسلام کی تعلیمات کا خلاصہ بیان کیا۔آپ نے ارشاد فرمایا: مسلمانو! میں تمہیں اللہ سے تقویٰ کی وصیت کرتا ہوں بہترین وصیت جو مسلمان ، مسلمان کو کر سکتا ہے وہ یہ ہے کہ اُسے آخرت کے لئے آمادہ کرے اور تقویٰ کے لئے کہے۔اللہ نے جن باتوں سے تمہیں دور رہنے کو کہا ہے ان سے بچتے رہو اس سے بڑھ کر نہ کوئی نصیحت ہے نہ ذکر۔یادرکھو! جو شخص خشیت الہی کے ساتھ عمل کرتا ہے اُس کا تقویٰ امور آخرت میں بہترین مددگار ثابت ہوگا۔نیز جو شخص اپنے اور اللہ کے درمیان کا معاملہ خفیہ اور ظاہر میں درست رکھتا ہے تو اُس کے لئے دنیا میں ذکر باقی رہے گا اور آخرت میں نیکیوں کا ذخیرہ بن جائے گا۔“ تاریخ طبری حصہ اول صفحہ 144) نماز جمعہ کے بعد آپ کا قافلہ اپنی منزل کے لئے روانہ ہوا راستے میں بھی لوگوں کا جوش و خروش دیکھنے کے قابل تھا۔بعض مسلمانوں نے بڑے ادب سے عرض کی کہ ہمارا گھر حاضر ہے ہماری جان حاضر ہے ہمارا مال حاضر ہے ہم آپ کی حفاظت کے سامان بھی کر سکتے ہیں آپ ہمارے ہاں قیام فرمائیں۔آپ بڑی محبت سے ان دعوت دینے والوں کے لئے دعائے خیر فرماتے اور آہستہ آہستہ آگے بڑھتے رہے۔مدینہ میں داخل ہوئے تو پر شوق استقبالیہ نعروں سے پورا شہر گونج رہا تھا مگر اُن سب 37