ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 32
کے دل اچھے تھے تو اللہ تعالیٰ نے اُن کے لئے ایک رسول بھی پیدا کر دیا ایسا ہی کہتے ہیں کہ مکہ سے جو مدینہ کی طرف ہجرت کی۔اس میں بھی یہی سیر" تھا کہ وہاں کے اصلاح پذیر قلوب کا ایک جذب تھا، “ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 244) یعنی وہ دل جو اصلاح کی طرف مائل تھے اُن کے جذبہ نے رسول اللہ صلی اسلام کو اپنی طرف کھینچ لیا۔ہجرت کے کامیاب سفر اور احباب سے ملاقات نے آپ کو مسرور کر دیا۔ملاقات کے بعد آنحضرت سلیم کسی خیال کے ماتحت ( جس کا ذکر تاریخ میں نہیں آیا ) سیدھے شہر کے اندر داخل نہیں ہوئے بلکہ دائیں طرف ہٹ کر مدینہ کی بالائی آبادی جو اصل شہر سے دو ڈھائی میل کے فاصلے پر تھی اور جس کا نام قبا، تھا تشریف لے گئے اس جگہ انصار کے بعض خاندان آباد تھے۔( سيرة خاتم النبيين صفحه 264) آپ اور آپ کے ساتھیوں نے مکہ اس حال میں چھوڑا تھا کہ چاروں طرف خون کے پیاسے آپ کی گھات میں لگے ہوئے تھے اور یہاں مدینہ میں علی الاعلان تو حید و رسالت کی گواہیاں دی جارہی تھیں۔چمکتے چہروں اور کھلی بانہوں سے استقبال ہورہا تھا یہ سب خدا تعالیٰ کا خاص کرم تھا کہ اُس نے خراب سے خراب حالات میں بھی آپ کی حفاظت فرمائی اور کسی دشمن کے ناپاک منصوبے آپ کو نقصان نہ پہنچا سکے تھے۔ہجرت بہت بڑا واقعہ تھا اسلامی تاریخ میں اس واقعہ میں ہجرت سے سن ہجری کا آغاز ہوا اب ہم سیرت پاک کے مطالعے میں سنِ نبوی کی جگہ سن ہجری لکھیں گے۔قبا میں آپ ممتاز بن عوف کے خاندانی مکان میں ٹھہرے جس کے رئیس کلثوم بن الہدم تھے۔ان کے مکان میں پہلے ہی مکہ سے ہجرت کر کے آنے والے کچھ لوگ ٹھہرے ہوئے تھے 32