ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 31 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 31

اُٹھ کر واپس اپنے گھروں کو چلے گئے۔اتنے میں ایک بلند آواز نے چونکا دیا۔”اے قبلہ کی اولاد جس کا تمہیں انتظار تھا وہ آگئے“ (قبیلہ اوس و خزرج کی دادی کا نام تھا۔سب کو ایک ساتھ مخاطب کرنے کے لئے ایسے پکارا جاتا تھا)۔یہ آواز ایک یہودی کی تھی جس نے اونٹنیوں کے پیروں سے اُٹھنے والی گرد اور مسافروں کے چمکتے چہروں سے اندازہ لگا لیا کہ یہی وہ عظیم الشان مہمان ہیں جن کے انتظار میں مدینے کے گلی کوچوں میں نئی زندگی کی ہما ہمی تھی۔رسول اللہ صلی ایتم کی آمد کی خبر سے لوگ گھروں سے اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے اپنے اپنے ہتھیار سجاتے ہوئے استقبال کے لئے نکل کھڑے ہوئے۔مدینہ میں ہتھیار لگا کر نکلنا اس بات کی علامت تھی کہ مہمان کو بہت عزت دی جا رہی ہے۔یہ 20 ستمبر 622ء بمطابق 8 ربیع الاول 1ھ پیر کا دن تھا لوگوں کا مجمع پانچ سو افراد تک پہنچ گیا جو ایک نظر ایک جھلک اپنے آقا کو دیکھنے کا مشتاق تھا۔(صحیح بخاری جلد اول صفحہ 233 حدیث 413) رسول اللہ آگئے نبی اللہ آگئے کے روح پرور نعرے ہر طرف گونج رہے تھے ایک صحابی براء بن عازب کہتے ہیں کہ جو خوشی انصار کو آنحضرت ﷺ کے مدینہ میں تشریف لانے کے وقت پہنچی ویسی خوشی کی حالت میں میں نے انہیں کبھی کسی اور موقع پر نہیں دیکھا۔بخاری باب 15 حدیث 3647) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بڑے پیارے انداز میں ان محبت کرنے والے دلوں کی تعریف فرمائی ہے۔” جب نفوس صافیہ کا جذب ہوتا ہے تو ممد و معاون بھی پیدا ہو جاتے ہیں صحابہ 31