ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 25
میں نے انہیں کچھ زاد راہ پیش کیا مگر انہوں نے نہیں لیا۔اور نہ ہی مجھ سے کوئی اور سوال کیا۔صرف اس قدر کہا کہ ہمارے متعلق کسی سے ذکر نہ کرنا۔اس کے بعد میں نے ( یہ یقین کرتے ہوئے کہ کسی دن آنحضرت صلی ایام کو ملک میں غلبہ حاصل ہو کر رہے گا ) آپ سے عرض کیا کہ مجھے ایک امن کی تحریر لکھ دیں۔جس پر آپ نے عامر بن فہیرہ کو ارشاد فرمایا اور اس نے مجھے ایک چمڑے کے ٹکڑے پر امن کی تحریر لکھ دی۔اس کے بعد آنحضرت سی سی ایم اور آپ کے ساتھی آگے روانہ ہو گئے۔( بخاری کتاب الہجرت) ( سيرة خاتم النبین صفحہ 241) سراقہ کی واپسی کے وقت ایک عجیب واقعہ ہوا۔اللہ تعالیٰ نے آنحضور صلی نیلم کوسراقہ کی آئندہ زندگی کا ایک واقعہ کشف دکھا دیا آپ نے سراقہ سے فرمایا سراقہ اس وقت تیرا کیا حال ہوگا جب شہنشاہ ایران کے سونے کے کنگن تیرے ہاتھ میں ہوں گے۔سراقہ نے حیران ہو کر کہا کسری بن ہرمز شہنشاہ ایران کے۔۔۔۔؟ آپ نے فرمایا ہاں وہ حیرت زدہ ہو گیا اپنا ہاتھ سامنے کر کے کہا ان ہاتھوں میں کڑے؟ آپ نے فرمایا میں تو دیکھ رہا ہوں ( حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں یہ واقعہ بالکل اسی طرح ہوا) سراقہ واپس چلا گیا تو آپ نے قدم آگے بڑھائے۔آپ کی منزل قریب آرہی تھی اللہ 25