ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 22 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 22

رہبر اس مقدس قافلے کو معمول کے راستے کی بجائے سمندر کے کنارے والے راستے سے لے کر چلا۔اس راستے پر تجارت کے لئے آنے جانے والے مسافر حضرت ابو بکر کو پہچانتے تھے تجارتی قافلوں کے مسافر اکثر ملتے رہنے سے ایک دوسرے کی صورتوں سے واقف ہو جاتے ہیں مگر پیارے آقا کا یہ اس راستے پر پہلا سفر تھا اس لئے لوگ آپ سے واقف نہ تھے کوئی شخص حضرت ابو بکر سے ملتا تو پوچھتا ابوبکر شخص کون ہے جو تمہارے آگے ہے؟ حضرت ابوبکر جواب دیتے۔یہ میرے ہادی ہیں اور مجھے راستہ بتاتے ہیں۔سوال کرنے والا تو راستے سے مراد مکے سے مدینے کا راستہ لیتا مگر آنحضور سالی یا یہ تم تو دنیا کو خدا تعالیٰ کی طرف ہدایت دینے والے صراط مستقیم کے ہادی تھے۔آپ دو جہانوں کے بادشاہ تھے جبکہ حضرت ابو بکر آپ کے غلام اور آپ کے محافظ تھے۔اصل محافظ تو قادر تو انا خدا کی ذات ہے حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بظاہر اپنی ذمہ داری سمجھ رہے تھے اُن کے پاس کوئی ہتھیار نہ تھا خود ہی کبھی آپ کے آگے ہو جاتے کبھی پیچھے ہو جاتے دائیں ہو جاتے کبھی بائیں ہو جاتے۔یہ محبت کا ایک انداز تھا۔اپنے ساتھی پر جانثاری کا جذبہ تھا۔آپ کے قیمتی وجود ہونے کا جتنا احساس حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تھا اور کسی کو نہیں تھا۔آپ ساری رات چلتے رہے اُس سے اگلا دن بھی ہو گیا گرم دن تھا راستے میں ایک چٹان اس طرح جھکی ہوئی نظر آئی کہ کچھ راستے میں اُس کا سایہ ہو گیا تھا۔حضرت ابوبکر نے اپنا لبادہ اس سایہ دار جگہ پر بچھا دیا۔آنحضور ایا کہ تم اس چھونے پر لیٹ گئے۔حضرت ابوبکر آپ کے آس پاس جو کوڑا کرکٹ تھا اُسے صاف کرتے رہے اتنے میں ایک چرواہا اپنی بکریوں کے ساتھ چٹان کے سائے میں آرام کرنے کے لئے آگیا۔حضرت ابوبکر نے اُس سے پوچھا : 22