ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 20
کر دیا اور بعض دفعہ ظالموں نے آنحضرت صلی الیہ ہم پر اس قدر پتھر چلائے کہ آپ سر سے پیر تک خون آلودہ ہو گئے۔اور آخر کار کافروں نے یہ منصو بہ سوچا کہ آنحضرت سلیم کو قتل کر کے اس مذہب کا فیصلہ ہی کر دیں تب اس نیت سے انہوں نے آنحضرت ملائیشیا پی ایم کے گھر کا محاصرہ کیا اور خدا نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اب وقت آگیا ہے کہ تم اس شہر سے نکل جاؤ تب آپ اپنے ایک رفیق کے ساتھ جس کا نام ابوبکر تھا نکل آئے اور خدا کا یہ معجزہ تھا کہ باوجود یکہ صد ہا لوگوں نے محاصرہ کیا تھا مگر ایک شخص نے بھی آنحضرت صلی لا الہ سلم کو نہ دیکھا اور آپ شہر سے باہر آگئے اور ایک پتھر پر کھڑے ہو کر مکہ کو مخاطب کر کے کہا کہ نکلتا ”اے مکہ! تو میرا پیارا شہر اور پیارا وطن تھا اگر میری قوم مجھ کو تجھ سے نہ نکالتی تو میں ہر گز نہ تب اس وقت بعض پہلے نوشتوں کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی کہ :- وہ نبی اپنے وطن سے نکالا جائے گا“ 20 20 (روحانی خزائن جلد 23 چشمہ معرفت صفحه 391)