ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 8
دعوت الی اللہ میں مخالفت کی وجہ سے وقت ہوئی تو اپنا علاقہ چھوڑنا پڑا۔حضرت عیسی علیہ السلام نے کشمیر کی طرف ہجرت فرمائی۔قرآن پاک میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی خاطر ہجرت کرنے والوں کو دنیا میں ترقی اور آخرت میں بڑا ثواب ملے گا۔وَالَّذِينَ هَاجَرُوا فِي اللهِ مِنْ بَعْدِ مَا ظُلِمُوا لَنُبَونَهُمْ فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً ، وَلَأَجْرُ الْآخِرَةِ أَكْبَرُ لَوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ الَّذِينَ (النحل:43-42) صَبَرُوا وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ۔اور جن لوگوں نے اس کے بعد کہ اُن پر ظلم کیا گیا ہجرت اختیار کی ( ہمیں اپنی ذات کی قسم ہے کہ ) ہم انہیں ضرور دنیا میں اچھی جگہ دیں گے اور آخرت کا اجر تو اور بھی بڑا ہو گا کاش ( یہ منکر اس حقیقت کو ) جانتے۔جو (ظلموں کا نشانہ بن کر بھی ) ثابت قدم رہے اور جو ( جو ہمیشہ ہی ) اپنے ربّ پر بھروسہ کرتے ہیں۔اللہ تبارک تعالیٰ کا ایک اور ارشاد ہے۔اے میرے مومن بندو میری زمین وسیع ہے۔پس تم میری ہی عبادت کرو۔ہر جاندار موت کا مزا چکھنے والا ہے پھر ہماری طرف ہی سب کو لوٹا یا جائے گا اور وہ لوگ جوایمان لاتے ہیں اور اُس کے مطابق عمل بھی کرتے ہیں ہم اُن کو جنت میں بالا خانوں میں جگہ دیں گے ( ایسی جنت میں ) کہ اُس کے سائیوں ( تلے ) نہریں بہتی ہوں گی وہ ( یعنی مومن ) اُن جنتوں میں ہمیشہ کے لئے رہتے چلے جائیں گے اور اچھے عمل کرنے والوں کا اجر بہت اچھا ہوتا ہے۔(العنکبوت :59-58) اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب کو بھی ہجرت کی مشکلات سے گذارا آپ کو بھی نبیوں کی سنت کے مطابق اپنے وطن کو چھوڑنا پڑا آپ مکہ ہی میں رہتے تو آپ کے سب کمالات کھل کر سامنے نہ 8