ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 9
آتے آپ کی تعلیمات تو پوری دنیا کے لئے ہیں مکہ کی فضا میں محدود رہنے کے لئے نہیں تھیں آپ کو اللہ تعالیٰ نے ذہنی طور پر اس ہجرت کے لئے تیار کیا تھا آپ کو وطن واپسی کی خوشخبریاں وطن چھوڑنے سے پہلے دی تھیں۔سورۃ القصص آیت 86 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وہ خدا جس نے تجھ پر یہ قرآن فرض کیا ہے اپنی ذات کی قسم کھا کر کہتا ہے کہ وہ تجھے اُس مقام کی طرف لوٹائے گا جس کی طرف لوگ لوٹ لوٹ کر آتے ہیں۔“ ہجرت کرنی پڑے گی مگر جانے سے پہلے واپس آنے کی خوشخبری دے کر حساس دل کو سہارا بھی دیا۔ہجرت کے متعلق ایک پیشگوئی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چازاد بھائی ورقہ بن نوفل نے بھی کی تھی حضرت خدیجہ نے اُسے پہلی وحی کا حال سنایا تھا تو اس نے کہا تھا کاش میں اُس وقت جوان ہوتا جب تیری قوم تجھے مکہ سے نکال دے گی آپ حیران ہوئے تھے کہ یہ امین اور صادق سمجھنے والی قوم ، آپ کو عزت دینے والی قوم آپ کو وطن سے نکال دے گی آپ نے حیران ہو کر ورقہ بن نوفل سے پوچھا تھا۔او مُخْرِج هم کیا میری قوم مجھے نکال دے گی؟ آپ نے وطن سے نکالے جانے کی خبر پر حیرت اور دکھ کا اظہار فرمایا تھا مگر اب سب پیشگوئیاں پوری ہو رہی تھیں۔حالات مکہ میں رہنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے رحمتہ اللعالمین حضور پاک یہ گوارا نہیں کر سکتے تھے کہ وہ خود تو مکہ سے تشریف لے جائیں اور مسلمانوں کو ظلم سہنے کے لئے چھوڑ دیں اس لئے آپ نے بہت دلیری سے اپنی ذات کو ڈھال بنا کر مسلمانوں کو ہجرت کا موقع دیا آپ کو علم تھا کہ جب تک دشمنوں کو آپ نظر آتے رہیں گے انہیں یہ احساس رہے گا کہ کوئی جاتا ہے تو جائے اصل سردار تو ابھی ہاتھ میں ہے۔9