ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 5
ہجرت میں دُکھ اُٹھانے والوں میں ایک حضرت ام سلمہ بھی تھیں جن کو ایک سال تک شوہر اور بچے سے جدا رکھا گیا ان کے حالات بڑے دردناک ہیں۔لوگوں کے غم وغصہ کو دیکھ کر خاموشی سے ہجرت کرنا ہی دستور تھا مگر جب حضرت عمرؓ نے ہجرت کی تو علی الاعلان ہجرت کی۔وہ دلیر، نڈر اور پر جوش تھے باقاعدہ ہتھیار لگا کر نکلے خانہ کعبہ میں آئے اور بلند آواز سے اعلان کیا کہ کسی نے روکنے کی جرات کی تو انجام ٹھیک نہیں ہو گا حضرت عمرؓ کے ساتھ ہیں صحابہ کرام کی ایک جماعت نے ہجرت کی۔آخر مکہ میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت علی اور چند غلام باقی رہ گئے۔ایک بار حضرت ابوبکر نے ہجرت کی اجازت مانگی تو آپ نے فرمایا آپ ابھی ٹھہریں اُمید ہے مجھے بھی اجازت مل جائے گی۔حضرت ابوبکر کو امید ہوگئی کہ جب اُن کے محبوب آقا کو اجازت ملے گی تو ہمراہی نصیب ہوگی اس خیال سے کہ کاش اس طرح ہو جائے آپ نے سفر کے لئے دو اونٹنیاں خرید کر گھر میں باندھ لیں اور انہیں خوب کھلانے پلانے لگے تا کہ لمبے سفر کے قابل ہوجائیں۔سردارانِ قریش ہجرت کرنے والے مسلمانوں کو دیکھ کر غصے میں آتے تھے مگر انہیں یہ بھی نظر آ رہا تھا کہ اُن کا اصل دشمن ابھی اُن کے ہاتھوں میں ہے۔آپ کے ساتھیوں کے ہجرت کر جانے سے اُن کا حوصلہ بڑھا اور سوچنے لگے کہ موقع پا کر آپ پر حملہ کر دیا جائے۔کفار مکہ کو جب کسی بڑے قومی مسئلے پر فیصلہ کرنا ہوتا تو وہ اپنے پارلیمنٹ ہاؤس میں جمع ہو جاتے جس کا نام دارالندوہ تھا۔چنانچہ اس اہم مسئلے پر فیصلہ کرنے کے لئے قریش کے سو (۱۰۰) بڑے بڑے سردار دارالندوہ میں جمع ہوئے وہ سب انتقام کی آگ میں جل رہے تھے۔شکست غم اور کینے نے مل کر اُن میں زہر بھر دیا تھا۔جس قدر شدید سے شدید سزا وہ سوچ سکتے تھے سب پر گفتگو ہوئی۔اگر کوئی کمزور پہلو نظر آتا تو اس کورڈ کر کے مزید سخت طریق سوچا جاتا۔مقصد یہ تھا کہ کوئی 5