ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 6 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 6

طریق ہو جس میں موت سے کم سزا نہ ہو اور کسی طرح بچ نکلنے کا موقع نہ دیا جائے۔پیارے آقا" تو خود مکہ چھوڑ کر جارہے تھے انہیں تو اس بات پر مطمئن ہونا چاہیے تھا مگر وہ بہت جاہل لوگ تھے۔اس بات پر خوش نہیں تھے کہ چلو جس شخص کو ہم فساد کی جڑ سمجھ رہے ہیں وہ شہر چھوڑ کر جارہا ہے انہیں نکل جانے میں سہولت دیتے مگر ایسا نہیں تھا وہ دراصل آپ کی جان کے دشمن تھے جان سے ماردینے کی تجویزیں پیش ہو رہی تھیں۔ابوجہل ، ان بد بختوں کا سردار، ایسی تجویز لایا جس پر سب متفق ہو گئے تجویز یہ تھی کہ ہر ایک قبیلہ سے ایک ایک جوان صحت مند آدمی چن لیا جائے پھر ان جوانوں کے ہاتھوں میں تلوار میں دے دی جائیں یہ جوان محمد کے گھر کو گھیر لیں جب وہ کسی کام سے باہر نکلیں تو یکدم حملہ کر کے انہیں قتل کر دیں اس طرح سب قبائل پر قتل کی ذمہ داری عائد ہو جائے گی۔مسلمان یا آلِ ہاشم کس کس سے بدلہ لیں گے؟ خون کے بدلے خون کس کس کا کریں گے؟ آخر وہ قتل کے بدلے کچھ رقم لے کر خون بہا پر راضی ہو جائیں گے وہ رقم سب قبائل مل کر ادا کر دیں گے بات ختم ہو جائے گی۔یه منصو بہ اتنا مکمل تھا کہ کسی کو بھی اس کے ناکام ہونے کا شبہ نہ تھا مگر یہ منصوبہ کمزور اور جاہل انسانوں کا تیار کیا ہوا تھا۔جس کا مقصد بانئی اسلام اور اسلام کو کچلنا تھا وہ کیا جانتے تھے کہ ایک قادر وتوا نا ذات اپنے پیاروں کی حفاظت کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فرشتے کو بھیجا کہ وہ حضرت محمد صلی الہ تم کو پیغام دے کہ آپ اس رات اپنے گھر پر نہ سوئیں۔سورۃ انفال کی آیت 31 میں اس کا بیان اس طرح ہے۔اور تو وہ وقت یاد کر کہ جب کا فرلوگ تیرے قید کرنے یا قتل کرنے یا نکال دینے پر مکر کر کے منصوبے باندھتے تھے اور مکر کر رہے تھے اور خدا بھی مکر کر رہا تھا اور خدا سب مکر کرنے 66 والوں سے بہتر ہے۔براہین احمدیہ صفحہ 233 حصہ سوم حاشیہ نمبر 11) عربی میں مکر کے معنی تدبیر کے ہوتے ہیں) 6