ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 69 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 69

حضرت بلال حبشی اور حضرت ابور ویجہ حضرت عبد الرحمن بن عوف اور حضرت سعد بن ربیع مؤاخات کا یہ سلسلہ کئی لحاظ سے مفید اور بابرکت رہا۔اول جو پریشانی اور بے اطمینانی مہاجرین کے دلوں میں اس بے وطنی اور بے سروسامانی کی حالت میں پیدا ہوسکتی تھی وہ اس سے بڑی حد تک محفوظ ہو گئے۔دوم رشتہ داروں اور عزیزوں سے علیحدگی کے نتیجہ میں جس تکلیف کے پیدا ہونے کا احتمال تھا وہ ان نئے روحانی رشتہ داروں کے مل جانے سے جو جسمانی رشتہ داروں کی نسبت بھی زیادہ محبت کرنے والے اور زیادہ وفادار تھے پیدا نہ ہوئی۔سوم انصار و مہاجرین کے درمیان جو محبت و اتحاد مذہبی اور سیاسی اور تمدنی لحاظ سے ان ایام میں ضروری تھا وہ مضبوط ہو گیا۔چهارم: بعض غریب اور بیکار مہاجرین کے لئے ایک سہارا اور ذریعہ معاش پیدا ہو گیا۔( سيرة خاتم النبيين صفحه 277) حضرت رسول خداصلی یا ایہام کے ہر فیصلہ میں حکمت کے ہزاروں پہلو ہوتے۔ایک چھوٹا سا واقعہ ہے بظاہر چھوٹا ہے مگر اس میں خاندان کی عظمت قائم رکھنے کا نفسیاتی سبق بھی شامل ہے۔ہجرت کے ابتدائی دنوں میں حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم صلی اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ کوئی خدمت میرے سپرد کر دیں تا کہ روزی کا سامان بنے آپ نے حضرت حمزہ سے فرمایا آپ کو اپنی عزت نفس کو قائم اور زندہ رکھنا زیادہ پسند ہے یا اسے ختم کرنا؟ حضرت حمزہ نے عرض کیا میں تو اُسے زندہ رکھنا ہی پسند کرتا ہوں۔69