ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 65 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 65

اگر یہودیوں یا مسلمانوں کے خلاف کوئی قوم جنگ کرے گی تو وہ ایک دوسرے کی امداد میں کھڑے ہوں گے۔7 اسی طرح اگر مدینہ پر کوئی حملہ ہو گا تو سب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔قریش مکہ اور ان کے معاونین کو یہود کی طرف سے کسی قسم کی امداد یا پناہ نہیں دی -8 جائے گی۔ہر قوم اپنے اپنے اخراجات خود برداشت کرے گی۔10 اس معاہدہ کی رُو سے کوئی ظالم یا آشم یا مفسد اس بات سے محفوظ نہیں ہوگا کہ اسے سزادی جائے یا اس سے انتقام لیا جاوے۔ہے۔( سيرة خاتم النبین صفحہ 279، بحوالہ سیرۃ ابن ہشام جلد 1 صفحہ 178-179 ) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اس عادلانہ نظام کا خوبصورت انداز میں ذکر فرمایا دنیا کے نظام کے واسطے خدا تعالیٰ نے دو حکومتیں بنائی ہیں ایک ظاہری اور ایک باطنی۔ہمارے رسول کریم ما یا یہ تم کو یہ دونوں حکومتیں عطا کی گئی تھیں پس شریروں ، بدمعاشوں، لٹیروں ، رہزنوں کو ان کی شرارتوں کی سزا دینی ملک میں امن قائم کرنے کے واسطے ضروری تھی۔مدینہ کے لوگوں نے آپ کو اس وقت اپنا ظاہری بادشاہ بھی مان لیا تھا۔اکثر مقدمات کے فیصلے آپ ہی سے کراتے تھے۔چنانچہ ایک مقدمہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان تھا آپ نے یہودی کو اس میں ڈگری دی تھی بعض وقت آپ نے کفار کے جرائم اُن کو معاف بھی کئے اور بعض رسوم بد کو آپ نے مقابلہ میں بھی ترک کر دیا ہے چنانچہ کفار مکہ لڑائی 65