ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 38
آوازوں میں سب سے پر مسرت اُن بچوں اور بچیوں کی آوازیں تھیں جو آپ کی آمد پر خوشی کے ترانے گا رہے تھے۔طَلَعَ البَدْرُ عَلَيْنَا مِنْ ثَنِيَّاتِ الْوِدَاع وَجَبَ الشُّكُرُ عَلَيْنَا مَا دَعَا لِلهِ دَاع ايُّهَا الْمَبْعُوثُ فِينَا جنت بالأمر المطاع یعنی چودھویں رات کا چاند ہم پر وداع کے موڑ سے چڑھا ہے اور جب تک خدا کی طرف بلانے والا دنیا میں کوئی موجود ر ہے ہم پر اس احسان کا شکر یہ ادا کرنا واجب ہے اور اے وہ جس کو خدا نے ہم میں مبعوث کیا ہے تیرے حکم کی پوری طرح اطاعت کی جائے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جس جہت سے مدینہ میں داخل ہوئے تھے وہ مشرقی جہت نہیں تھی۔مگر چودھویں رات کا چاند تو مشرق سے چڑھا کرتا ہے۔پس مدینہ کے لوگوں کا اشارہ اس بات کی طرف تھا کہ اصل چاند تو روحانی چاند ہے۔ہم اس وقت تک اندھیرے میں تھے اب ہمارے لئے چاند چڑھا ہے اور چاند بھی اُس جہت سے چڑھا ہے جدھر سے وہ چڑھا نہیں کرتا۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحہ 138 ) مدینہ میں اپنے قیام کے بارے میں آپ نے قبا میں ہی ارادہ ظاہر فرمایا تھا کہ ” میں عبد المطلب کے ننھیال بنو نجار کے ہاں ٹھہروں گا (مسلم باب الہجرت ) اس فیصلے سے آپ نے 38