ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 30
ہی ان سے خار کھائے ہوئے تھے یہودی قبیلہ بنو قینقاع قبیلہ خزرج کے ساتھ مل گیا اور بنو نصیر اور بنوقریظہ اوس کے ساتھ مل گئے اس طرح دو بڑے بڑے گروہ بن گئے اور ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنے کیلئے آپس میں جنگیں کرنے لگے۔یہودی فطرتا شرارت پسند تھے۔اختلافات پیدا کر کے لڑائی کروانا اُن کی عادت تھی۔سب سے طویل مشہور اور خوں ریز جنگ جنگ بعاث کہلاتی ہے یہ اُس زمانے میں لڑی جارہی تھی جب مکہ میں آنحضرت نے نبوت کا دعویٰ فرمایا۔اسلام کے مدینہ میں آنے کے قریب کے زمانہ میں مدینہ کے لوگوں کو اس حالت کا احساس پیدا ہوا اور انہوں نے اپنی حالت پر غور کرنا شروع کیا آخر بعض لوگوں نے یہ تجویز کی کہ اس فتنہ کے سد باب کی ایک ہی صورت ہے اور وہ یہ کہ مدینہ میں ایک منظم حکومت قائم کی جائے اور اپنے میں سے کسی کو بادشاہ تجویز کرلیا جائے یہ خیال زور پکڑ گیا اور مدینہ کے مشرک لوگ ایک بادشاہ کے انتخاب پر متفق ہو گئے آخر ایک شخص عبداللہ ابن ابی سلول پر جو خز رج قبیلہ کا رئیس تھا سب کا اتفاق ہوا عام رواج کے مطابق اس کے لئے ایک تاج بنوانے کی تیاری ہورہی تھی کہ ان تک اسلام کی آواز پہنچ گئی اور انہوں نے محسوس کیا کہ ان کی مشکلات کا علاج اسلام ( تفسیر کبیر جلد اول صفحه 171) ہے۔اسلام کا پیغام مدینہ پہنچ چکا تھا۔با قاعدہ نماز جمعہ کا آغاز بھی ہو چکا تھا۔قرآنِ کریم کی درس و تدریس کا سلسلہ جاری تھا۔پیغام الہی کا نور آہستہ آہستہ اُن کے شہر کو منور کر رہا تھا۔لوگ یہ سمجھنے لگے تھے کہ پیشگوئیوں کے مطابق موعود نبی مطلع مدینہ پر نمودار ہونے والا ہے۔انہیں کے انتظار میں مدینہ والے آنکھیں بچھائے بیٹھے تھے۔ایک دن انتظار کی گھڑیوں میں سورج سر پر آ گیا اور دو پہر کی گرمی میں شدت آگئی تو لوگ 30