ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد

by Other Authors

Page 7 of 80

ہجرت مدینہ اور مدینے میں آمد — Page 7

”اوراے پیغمبر وہ وقت یاد کر جب کافر لوگ تجھ پر داؤ چلانا چاہتے تھے تا کہ تجھے گرفتار کر رکھیں یا تجھے مارڈالیں اور یا تجھے جلاوطن کر دیں۔اور حال یہ تھا کہ کا فر تو قتل کے لئے اپنا داؤ کر رہے تھے اور خدا ان کو مغلوب کرنے کے لئے اپنا داؤ کر رہا تھا اور خدا سب داؤ کرنے والوں سے بہتر داؤ کرنے والا ہے جس کے داؤ میں سراسر مخلوق کی بھلائی ہے۔چشمه معرفت صفحہ 234 - روحانی خزائن جلد 23) شہر میں نو (9) شخص ایسے تھے جن کا پیشہ ہی فساد تھا اور اصلاح کے روادار نہ تھے انہوں نے باہم قسمیں کھائیں کہ رات کو پوشیدہ طور پر شب خون مار کر اس شخص کو اور اس کے گھر والوں کو قتل کر دو اور پھر ہم اس کے وارث کو جو خون کا دعویدار ہوگا یہ کہیں گے کہ ہم تو ان لوگوں کے قتل کرنے کے وقت اس موقع پر حاضر نہ تھے اور ہم سچ سچ کہتے ہیں یعنی یہ بہانہ بنا ئیں گے کہ ہم تو قتل کرنے کے وقت فلاں فلاں جگہ گئے ہوئے تھے جیسا کہ اب بھی مجرم لوگ ایسے ہی بہانے 66 بنایا کرتے ہیں تا مقدمہ نہ چلے پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تو دیکھ ان کے مکر کا انجام کیا ہوا؟ (سورة النحل: 19 ترجمہ حضرت مسیح موعود چشمه معرفت روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 201) مخلوق کی بھلائی والا خدائی داؤ اور تدبیر یہ تھی کہ وہ اپنی محبوب ہستی حضرت محمد مصطفیٰ لانا سلیم کو دشمنوں کے پہنچوں سے بچا کر امن کی جگہ لے جائے اس کیلئے اللہ تعالیٰ کا جو منصوبہ تھا اُس کی ایک جھلک خواب میں آنحضرت کو نظر آئی تھی۔اس خواب سے آپ ذہنی طور پر تیار ہو گئے کہ آپ کو بھی دوسرے انبیاء کی طرح وطن چھوڑنے کا دُکھ اُٹھانا پڑے گا۔پہلے بھی اسی طرح ہو چکا تھا جب وطن کے لوگ بات ہی نہ سنیں تو وہ کام کس طرح ممکن ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نبی کو بھیجتا ہے حضرت ابراہیم علیہ السلام عراق کے رہنے والے تھے مگر جب اُن کی قوم نے بات نہ سنی تو فلسطین کی طرف ہجرت کرنا پڑی۔حضرت نوح علیہ السلام کو بھی اپنا وطن چھوڑنا پڑا اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی 7