لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 90 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 90

لجَّةُ النُّور اردو ترجمہ والتبــار۔لا يُعطون فراسة انہیں فراست صحیحہ عطا نہیں کی جاتی اور نہ عقلمندوں صحيحة ، ولا كالعقلاء قريحة جيسى فطرت۔اور تجھے علم ہے کہ ایک اعلیٰ پائے وتعلم أن من شرائط الوالی ذی کے فرمانروا کے لئے یہ شرط ہے کہ اسے عالی المعالى، أن يُعطى له من دماغ دماغ عطا کیا جائے اور ایسی عقل دی جائے جو عالى، وعقل يبلغ إلى الأعماق عميق در عميق معاملات تک پہنچ سکے اور ہمہ جہت و الحوالي، ونور يحيط الأسافل ہو اور ایسا نور دیا جائے جو نشیب و فراز سب کا والأعالي، وأن يعرف ضمير احاطہ کر سکے۔اور یہ کہ وہ متکلم کے مافی الضمیر کی المتكلم، ويفرّق بين المتكلّف شناخت کر سکے۔اور مصنوعی اور حقیقی دردمندوں والمتألّم، ويكون على بصيرة میں تمیز کر سکے۔اور اسے ایسی بصیرت حاصل ہو كأنه نُوجی بذات الصدور گویا کہ وہ راز دل سے آگاہ ہو۔یا پوشیدہ (۸۳) أو تكهن بما كان من السر رازوں کو اپنی مہارت سے بھانپ لیتا ہو۔اور المستور۔ومن شرائط الإمارة فرماں روائی کی شرائط میں سے یہ بھی ہے کہ حاکم أن يفرق الأمير بين الورم سوجن اور موٹاپے میں فرق کر سکے۔اور یہ کہ وہ والوثارة ، و أن يفهم دقائق سیاسی امور کی باریکیاں سمجھ سکے اور اس کی رائے الأمور السياسية۔ويفوق رأيه وزارت کے تمام اراکین کی آراء پر فوقیت رکھتی آراء جميع أركان الوزارة ہو۔اس کا رُعب بہت عظیم ہو اور ایک اشارے وأن يعظم رعبه و تُنفّذ أحكامه سے اس کے احکام نافذ ہوں۔اور یہ کہ وہ امور بالإشارة ، وأن يقدر على ضبط کے نظم و ضبط اور اعتماد کے ساتھ ان کو بجالانے کی الأمور والأخذ فيها بالثقة، وأن قدرت رکھتا ہو۔اور یہ کہ وہ اُن کو غور وفکر سے ادا يؤديها بالتروى والمضاء فيها کرے اور سچی بصیرت سے ان کو پورا کرنے کا على وجه البصيرة الصادقة، وأن پختہ ارادہ کرے۔اور پیچیدہ راہوں میں اس کے تكون له أنوار دراية القلب پاس خضر کی طرح دل کی دانائی کے انوار ہوں۔