لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 78 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 78

لجة النُّور ZA اردو ترجمہ بعد تقاد الأعوام والسنين، ثم صدیوں میں نہیں تھا۔بلکہ سالہا سال گزرنے کے ازداد يومًا فيوما حتی کمل فی بعد ظاہر ہوا پھر دن بدن بڑھتا گیا یہاں تک کہ هذا الزمان۔بما زاد الغِلُّ و اس زمانہ میں اپنے کمال کو پہنچ گیا۔کیونکہ کینہ بڑھ نُزِعَ العلم من صدور الرجال گیا اور مردوں اور عورتوں کے سینوں سے علم کھینچ والنسوان، واتخذ الناس أئمتهم کر نکال لیا گیا اور لوگوں نے ان جاہلوں کو اپنے جهَالًا، الذين ما أُعطوا علما امام بنالیا۔جنہیں نہ تو علم دیا گیا ہے اور نہ ہی اہل ولا كـأهل القلوب حالا، فضلوا قلوب اہل اللہ ) کی طرح کا حال عطا کیا گیا وأشاعوا ضلالا۔ونرى أن شوكة ہے۔پس وہ خود بھی گمراہ ہوئے اور گمراہی کی الدين وصِيتَ جَدْ رَبِّنا قد أَرَزَتْ اشاعت بھی کی۔ہم دیکھتے ہیں کہ دین کی شوکت إلى الحجاز، كما تَأْرِزُ الحيَّةُ إلى اور ہمارے رب کی بزرگی کی شہرت حجاز کی طرف جُحرها عند الأوشاز ما بقی سمٹ رہی ہے۔جیسے سانپ مصیبت کے وقت عظمة الدين وعزّة حدوده إلا فى اپنے بل کی طرف سمٹتا ہے۔سوائے مکہ اور مدینہ مكة والمدينة وترى فيهما کے دین کی عظمت اور اس کی حدود کا احترام أطلال هذه العمارة كعقيان قليل (کہیں) باقی نہ رہا۔اور تو ان دونوں شہروں میں من الخزينة۔وإن كنا نرى بعض (دين كى ) اس عمارت کے کھنڈرات دیکھتا ہے ۷۲ بدعاتٍ أيضا في هذه الدیار فی جیسا کہ خزانے میں سے تھوڑا سا خالص سونا۔قليل من العباد ولكن قد طرأ اگر چہ ہم اس ملک میں بھی بعض بدعات چند لوگوں أضعافُ ذالك على غيرها من میں دیکھ رہے ہیں۔لیکن اس کے علاوہ دوسرے البلاد۔ثم مع ذالك لا نجد ممالک میں اس سے کہیں زیادہ بدعات آنا فانا راہ ريح قوة الإسلام وعرضه إلا پا رہی ہیں۔بایں ہمہ ہم اسلام کی قوت اور اس کی في تلك الأرض المقدسة۔عزت کی خوشبو سوائے اس مقدس سرزمین کے کہیں وأما الأرضون الأخرى فلا نراها نہیں پاتے۔جہاں تک دوسری سرزمینوں کا تعلق