لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 77 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 77

لجَّةُ النُّور LL اردو ترجمہ القذر كـمـا تـأكـل الجلالة۔نجاست خور جانور کی طرح نجاست کھاتے ہیں۔والأصل في ذالك ما روى عن اس میں اصل بات وہ ہے جو ہمارے آقا خیر الانام سيدنا خير الأنام، وأفضل اور افضل الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم الأنبياء الكرام، وهو أنه قال سے مروی ہے، اور وہ یہ ہے کہ جب آپ صلی اللہ صلى الله عليه وسلم حين أخبر عليه وسلم آخری زمانہ کے بارے میں بتارہے تھے تو عن أواخر الأيام لَتَسْلُكُنَّ سُنَنَ آپ نے فرمایا کہ تم ضرور اپنے پہلوں کی سنت پر من قبلكم حَذْوَ النعل بالنعل۔اس طرح چلو گے جیسے ایک جوتی دوسری جوتی کے وأراد عليه السلام من هذا أن مشابہ ہوتی ہے۔اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی المسلمين يشابهونهم في جميع مراد یہ تھی کہ مسلمان ہر قسم کے دجل اور بناوٹ میں أنواع الدجل والجُعل، وقال اُن سے مشابہت اختیار کریں گے۔اور آپ نے لتأخُذُنّ مثل أخذهم إن شبرا فرمایا کہ ان کے (مذہب ، اقوال اور اعمال وغیرہ) فشيرًا وإن ذراعًا فذراعا، وإن اختیار کرنے کی طرح تم اختیار کرو گے۔اگر ایک باعًا فباعا، حتى لو دخلوا جحر بالشت ہوگا تو ایک بالشت بھر اگر ایک ہاتھ کے برابر ضَب لدخلتموه معھم ہوگا تو ایک ہاتھ بھر اور اگر ایک بازو کی لمبائی کے برابر ہو ولايخفى على العالمین آن گا تو ایک بازو بھر۔یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ بنی اسرائیل قد افترقوا علی میں داخل ہوئے ہوں گے تو تم بھی اُن کے ساتھ اُس إحدى وسبعين فرقة فأوجب میں داخل ہو گے۔اور علماء پر یہ بات مخفی نہیں کہ منطوق هذا الحديث أن تكون بنى اسرائیل اکہتر فرقوں میں بٹے تھے پس اس حدیث کا كمثلها فرق أُمّة سيدنا خاتم بیان یہ واجب کرتا ہے کہ تعداد کے اعتبار سے ہمارے اے کے النبيين عِدةً۔وهذا الافتراق لم يكن آقا خاتم النبین صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے فرقے في القرون الثلاثة من قرن النبوة بھی ان کی مانند ہوں۔اور یہ اختلاف نبوت کی صدی إلى قرن تبع التابعين، بل ظهر سے لے کر تبع تابعین کی صدی تک کی ( پہلی ) تین