لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 132 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 132

لُجَّةُ النُّور ۱۳۲ اردو ترجمہ أنهم صاروا في الشر للشيطان کرتے۔حاصل کلام یہ کہ وہ شہر میں شیطان كفىء، وليسوا من الخیر فی کے ظل ہو گئے ہیں اور اُن میں رتی بھر خیر شيء لا يعلمون من دون نہیں ہے بجز جہالت کے وہ کچھ نہیں جانتے۔بقية الحاشية وإن وجدت لفظًا بقیہ ترجمہ۔اور اگر ایک لفظ سفید و سیاہ خوبصورت كعين حوراء۔فتـجـد آخر كنـاقة آنکھ کی طرح ہے تو دوسرا رات کو نہ دیکھ پانے والی اونٹنی کی طرح پائے گا۔اور اگر تو ان کے قافیے اس عشواء۔وإن وجدت مثلا قافيتين متوازيتين كعجيزتى النساء۔فتجد طرح متوازن پائے کہ جس طرح سڈول عورتوں رديفا كالية اختل تركيبها کے اعضاء۔تو اس کی ردیف ایسی پائے گا جیسے وہ سرین جس کی بناوٹ میں خلل آگیا ہو اور حالتِ و تحركت وما بقيتُ على الاستواء۔استقامت پر نہیں رہے ہیں۔قرآن تو اس وإن القرآن يشابه الوجوه الحسان خوبصورت وجود سے مشابہ ہے جس کے دانت تو ہر لا تجد ثناياه إلا مزينة بالشنب ولا خدوده إلا مصبية باللهب۔وقت چمک سے مزین اور اس کے رخسار دلکش سرخی ولا بـنـانـه إلا لامعة من الترف سے آراستہ پائے گا۔اور اس کی انگلیوں کو نزاکت ولا خَصْرَه إِلَّا منطقة بالهيف سے درخشندہ اور اس کی کمر کوازار بند کی طرح پتلی ولا حواجبه إلا بالجة بالبلج اور اس کے ابرو کشادگی کے ساتھ روشن اور اس کے ولا مباسمه إلا زاهرة بالفلج دانت موتیوں کی طرح چمکنے والے ہیں۔اس کی ولا جفونه إلا مسكرة بالسقم آنکھوں کی پلکیں نیم بازمست اور اس کی ناک بلند ولا أنفه إلا معتبدا بالشمم۔اور متوازی ہے اُس کی پیشانی زلفوں کے ساتھ اسیر ولا جَبْهَه إلا آسرةً بالطرر کرنے والی اور اس کی آنکھ اپنی خوبصورت سفیدی و ولا عينه إلا معبدة بالحور۔فهذه سیاہی کی بدولت غلام بنا لینے والی پائے گا۔پس یہ وہ عشرة آراب۔يوجد حُسنها في دس اعضا ہیں جن کا حسن بغیر کسی شک وشبہ کے القرآن من غير ارتياب۔منه قرآن میں پایا جاتا ہے۔منہ