لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 133 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 133

لجَّةُ النُّور ۱۳۳ اردو ترجمہ۔الجهلات، ويشابهون السباع اور وہ عادات میں درندوں سے مشابہ ہیں۔في العادات، وقد أضاعوا مادة انہوں نے ہمدردی اور میل جول کے مادہ کو المواسات والمقانات۔كأنهم ضائع کر دیا گویا انہوں نے جنگل کو اپنا وطن استوطنوا الفلوات وإذا رأوا بنا لیا ہے اگر وہ دیکھیں کہ کسی سے جہالت کی أحدًا صدر منه قليل من الجهالة چھوٹی سی بات بھی صادر ہوگئی ہے تو ایسا کم فقَلَّ أن يُسعِفوا بالإقالة، بل ہی ہوتا ہے کہ وہ اُسے معاف کر دیں۔بلکہ يشتمونه على ذالك العِثار وہ اس لغزش پر اُسے گالیاں دیتے ہیں یا أو يُدخلونه فى الكفّار وكما اُسے کافروں میں داخل کر دیتے ہیں اور أن الفلاحين يقاتلون على قرى جیسے زمیندار دیہات اور درخت کی شاخوں وجفان۔يحارب هذه العلماء پر لڑ پڑتے ہیں یہ علماء بھی ضیافت اور شور بے على قرى وجفان۔يتركون کے پیالے پر جنگ کرنے لگ جاتے ہیں۔الحُب للحب۔ويؤثرون الرُّبّ وہ دانوں کی خاطر دوستی چھوڑ دیتے ہیں اور على الربّ۔يتنازعون علی اپنے پروردگار پر پھلوں کے رس کو ترجیح الأموات، ويأخذون أثواب دیتے ہیں۔وہ مُردوں پر تنازعہ کرتے ہیں الميت من خبث النيات وكل اور بدنیتی سے میت کے کپڑے لے لیتے ہیں۔منهم يُرى اللسان حريفه اُن میں سے ہر کوئی اپنے حریف کو تلوار کی كالعَضُب۔ويبدى ناجذيه ويحرق طرح زبان دکھاتا ہے غصہ سے اپنی کچلیاں نابه من الغضب۔ومع ذالك قد نکالتا اور دانت پیستا ہے مزید برآں یہ کہ ان خورف كسبهم ولا يفارقهم کا پیشہ منحوس ہے اور بڑے بڑے کاموں قطوب الخطوب وحروب میں ناکامی کی تلخی اور پریشانیوں کی جنگیں اُن (۱۲۵) الكروب، ويلازمهم في جميع سے جدا نہیں ہوتیں۔عمر بھر تہی دستی ان کے رهم صفر الراحة وفراغ | لازم حال رہتی ہے اور ( ان کا ) صحن ہمیشہ خالی