لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 65 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 65

لجَّةُ النُّور ۶۵ اردو ترجمہ أن يبرز في مضماری، ومَن برز آئے اور جو بھی نکلا وہ میرے انکار کی وجہ سے فمـات قـعصـابـإنكارى بلا توقف مر گیا۔پس حاصل کلام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ۔فالحاصل أن الله كرمنى بأنواع نے مجھے قسم قسم کے احسانات سے مکرم کیا ہے اور الصنيعة، ورزقني من نعم مجھے دنیوی اور دینی نعمتوں سے نوازا ہے اور اپنے الدنيوية والدينية، و رَاعَى أمورى فضل وکرم سے میرے (تمام) امور کی رعایت بالفضل و الكرامة، وأحسن فرمائی اور رحمت و شفقت سے میرا ٹھکانہ بہترین بنایا مشوای بــالتـحـنـن والرحمة ہے، اور اس نے مجھے خوشخبری دی کہ اس کی نظریں وبشرني بأن عيونه على فی خلوت و جلوت ، ہر حال میں میرے پر ہیں اور وہ ۵۹ خَلُوتى ومُشاهَدی وفی کل میرے خوف کے اوقات میں مجھ پر رحم فرماتا اور حالى، وإنه يرحمني ويمنيني مجھے آرزو اور امید دلاتا ہے۔میں یقین رکھتا ہوں ويؤملني عند أهوالى۔وإني أرى کہ جو کچھ اُس کے پاس ہے گویا وہ میرے پاس كل ما هو عنده كأنه هو عندی ہے اور میرے ہاتھ میں ہے، اور یہ کہ وہ میری پناہ وفى يدى، وإنه كهفی و ملجأی گاه ، میرا ملجاء، میری ڈھال اور میرا بازو ہے۔وہ وتُرسى وعَضُدى۔وإنه سَرَى في میرے دل میری رگوں اور میرے خون میں قلبی و عروقی و دمی، و إنى منه سرایت کر چکا ہے۔اس کے حضور میری ایسی منزلت بمنزلة لا يعلمها الخلق من ہے کہ جسے مخلوق میں سے عربی ہو یا عجمی ، کوئی نہیں عربي وعجمي وإنه خلقنى و جانتا۔اُس نے مجھے پیدا کیا اور میرے سب قومی خَلَقَ كلَّ قوّتى۔فرجعت إليه مع پیدا کئے۔پس میں نے انہی قافلوں سمیت اُس کی هذه القوافل، وانهمرت طرف رجوع کیا اور میں اس کی جانب ایسے رواں إليه كما ينهمر الماء من قُنن ہوا جیسے پانی پہاڑوں کی چوٹیوں سے نچلی جگہوں الجبال إلى الأسافل۔وأحاطنى كى طرف بہتا ہے۔اُس نے مجھے اپنے حصار میں فغُشِيت تحت ردائه ، ومتعنى لے لیا پس میں اُس کی رداء کے نیچے چھپ گیا۔