لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 53 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 53

لجَّةُ النُّور ۵۳ اردو ترجمہ الظلمانية إلى هوية إبليسية ہیں۔وہ ریزہ ریزہ کر دینے والی لاٹھی کے۔واحتاجوا إلى عصا ثامِغةٍ۔وإنهم محتاج ہیں۔انہوں نے فلاسفروں کی ہر اُس تبعوا الفلاسفة في جميع ما رقمه بات کی پیروی کی جو انہوں نے لکھی اور جو بناتهم، ونطق به لسانهم ان کی زبانوں پر جاری ہوئی۔وہ اُن کے و دخلوا بطونهم، واستيقنوا پیٹوں میں داخل ہو گئے اور انہوں نے اُن کی ظنونهم۔واستحسنوا شؤونهم ظنی باتوں کو یقینی سمجھ لیا اور ان کے واستبدلوا الزَقُومَ بالتي هي لهنه کارناموں کو احسن گردانا اور انہوں نے لُهَنةُ الجنّة وأخذوا الخَزَفَ وأضاعوا جنت کی مہمان نوازی کے بدلہ تھوہر کو لیا۔وشاح دررِهم اليتيمة انہوں نے ٹھیکریاں لے لیں اور یکتا دیگانہ الفريدة۔وقالوا : ما انحلت موتیوں کے ہار ضائع کر دیئے ، اور انہوں نے عُقَدُنا وما انكشف غطاؤنا إلا کہا ، کہ فلسفہ کی کتب کے بغیر نہ ہمارے بكتب الفلسفة، وإن هى إلا حيل عقدے حل ہو سکتے ہیں اور نہ ہی حقیقت منکشف كاذبة، وكلمات مخلوطة ہو سکتی ہے۔یہ محض جھوٹے بہانے ہی ہیں اور بالمكر و الفرية، بل ما حصلت مکر و افترا کی آمیزش سے بنے کلمات ہیں۔(۴۷) لبانه نفوسهم الأمارة إلا فى بلکہ ان کے نفوس امارہ کی حاجت مادر پدر طرق الإباحة والخروج من آزادی اور ملت و مذہب کے بندھن سے نکلے الربقة المليّة و لا يعلمون أن بغير حاصل نہیں ہو سکتی۔وہ نہیں جانتے کہ انبیاء شرائع الأنبياء قد هدَتْ إلى كى شریعتیں اس حضرت احدیت کی طرف کی حضرة غفل عنها عقول راہنمائی کرتی ہیں جس سے دانشوروں کی الحكماء وأوضحت أسرارًا لم عقلين غافل رہیں۔اور اُن اسرار کی يزل الفلاسفة في ظلماتٍ منها وضاحت کرتی ہیں جن سے فلسفی ہمیشہ تاریکی میں لا يعلمون طرق الاهتداء۔والسر رہے۔وہ ہدایت کی راہوں سے آشنا نہیں۔