لُجَّةُ النّوْر — Page 46
لجَّةُ النُّور ۴۶ اردو ترجمہ ليتأدبوا مع كلام حضرة العزّة، تا که کلام رب العزت کا پاسِ ادب بل تصدوا للنظم والنشر وكثر کریں۔بلکہ وہ نظم ونثر میں مشغول ہو گئے اور شغلهم في هذه المهجة، ولهم اس راہ میں ان کا انہماک بہت بڑھ گیا۔ان أشعار وقصائد و عبارات ساقوها کے ایسے اشعار، قصیدے اور ایسی عبارات على نهج البلاغة، ودُوّنت فی ہیں جنہیں انہوں نے بلاغت کے اسلوب میں الكتب المشهورة۔ومن المعلوم بیان کیا اور وہ مشہور کتابوں میں درج ہو أنه كان طائفة من الشعراء گئیں۔یہ بات معلوم ہی ہے کہ دربار نبوی الماهرين والفصحاء المتكلمين میں ماہر شعراء اور فصیح کلام کرنے والوں کا موجودين في حضرة النبوّة۔ثم ایک گروہ موجود رہتا تھا۔پھر یہ بھی جان لے اعلم أن كلام الأولياء ظلّ لکلام کہ اولیاء کا کلام انبیاء کے کلام کا ایسے ظل الأنبياء كأشكال منعكسة ومرايا ہوتا ہے جیسے ہوتا ہے جیسے منعکس شکلیں اور آمنے سامنے متقابلة وهما يخرجان من عین پڑے آئینے اور یہ دونوں ایک ہی چشمہ سے واحدة، وما هو ثابت للأصل نکلتے ہیں۔اور جو چیز اصل کے لئے ثابت ہے ثابت للظلّ من غير تفرقة، ولا وه بغیر کسی تفریق کے ظل کے لئے بھی ثابت وہ يُعرف كلام الولاية إلا بمشابهته ہے۔ولایت کے کلام کی تو شناخت ہی نہیں کی بكلام النبوة ، في كل صفة جاسکتی سوائے اس کے کہ وہ ہر صفت اور ہیئت وهيئة۔وكفاك هذا إن كان ميں نبوت کے کلام سے مکمل مشابہہ ہو۔اگر لك حظ من معرفة۔ثم نرجع تجھے معرفت سے کچھ بھی حصہ ملا ہے تو تیرے إلى أوّل الكلام، فاعلم أن لئے اتنا ہی کافی ہے پھر ہم (اپنے ) پہلے کلام الزمان قد تغيّر بالتغير التام ، کی طرف لوٹتے ہیں۔پس جان لے کہ زمانہ و كثرت المُعاصاة، وقلت مکمل طور پر بدل چکا ہے۔گناہوں کی کثرت المواسات ، و از درى أهلُ ہے اور غمخواری کم ہو گئی ہے۔بلاؤں کے نزول