لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 22 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 22

لجَّةُ النُّور ۲۲ اردو ترجمہ الناس بالبر وطريق الصلحاء ، شکار تلاش کرتے ہیں۔وہ لوگوں کو تو نیکی اور صلحاء وينسون أنفسهم ويحسبون هذا كے راستے پر چلنے کا حکم دیتے ہیں لیکن اپنے نفسوں الطريق من الدهاء لا ينقدون کو بھول جاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ یہ دانائی أمور الدين بعين المعقول کا طریق ہے۔وہ دین کے معاملات کو عقل کی ولا يمعنون النظر فی مبانی آنکھ سے نہیں جانچتے اور اصول کی بنیادوں پر الأصول، ولا يسلكون مسلك بنظر دقيق غور و فکر نہیں کرتے اور نہ ہی تحقیق کی راہ التحقيقات وما تجدهم إلا اختیار کرتے ہیں۔تو انہیں حیوانات جیسا بلکہ كالعـجــمــاوات، بل هم جمادات کی طرح پائے گا۔وہ حلم اور نرمی تو ایسے كالجمادات ويُظهرون الحلم ظاہر کرتے ہیں گویا کہ وہ نبوت اور ولایت کے والرفق كأنهـم هـذبوا بأخلاق اخلاق سے آراستہ کیے گئے ہیں۔مگر جب وہ النبوة و الولاية ، و إذا رأوا ان دیکھتے ہیں کہ ان کی نرمی ان کو کچھ فائدہ نہیں دے استعطافهم لا يُكدِى رجعوا إلى رہی تو وہ بدگوئی اور شکایات پر اتر آتے ہیں ، وہ الإغلاظ والشكاية۔يأتمون ابرار کو گنہگار ٹھہراتے ہیں اور برگزیدہ لوگوں کی تکفیر الأبرار، ويكفرون الأخيار، کرتے ہیں۔وہ بڑے بڑے صلحاء کو فاسق قرار ويفسقون الصلحاء الكبار، دیتے ہیں اور کامل بصیرت رکھنے والی قوم کو جاہل ويجهلون قوما يكملون الأنظار، گردانتے ہیں، باوجود اس کے کہ وہ خود نادان مع أنهم كغمر جاهل ما يعلمون جاہل کی طرح ہیں۔وہ نہیں جانتے کہ اسلام کیا ما الإسلام، ثم يضعون من الذين ہے۔پھر وہ اہل علم کو اُن کے مرتبہ سے گرانے کی أوتوا العلم و يحسبون أنهم کوشش کرتے ہیں اور گمان کرتے ہیں کہ وہ خود العلماء العظام۔يَرُودون بہت بڑے عالم ہیں۔وہ اپنی نظروں کی چراگاہ في مسارح لمحاتهم۔من میں اس کی تلاش کر رہے ہوتے ہیں جو ان کے 19 يملأ وفاضَهم بعد سماع كلمات سننے کے بعد ان کے توشہ دان کو بھر دے۔