لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 20 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 20

لجَّةُ النُّور اردو ترجمہ المسلمين۔إنهم تركوا الدين دنیا کی خاطر دین کو چھوڑ دیا اور اپنی عاقبت کے لدنياهم وآثروا هذه الدار على مقابل پر اس دنیا کو ترجیح دی۔انہوں نے فساد سے عقباهم، وأحبوا الفساد، وعادوا محبت کی اور سچائی اور راستی سے دشمنی۔وہ اُس قوم الصدق والشداد، ونسوا کے اُسوہ کو بھول گئے جنہوں نے کمال فرمانبرداری نموذج قوم افتتحوا بالشهادة سے جام شہادت نوش کیا اور اپنے نفسوں کو محبت اور بكمال الانقياد وذبحوا نفوسهم پیار سے ذبح کر دیا۔یہ ایسے لوگ تھے جنہوں نے بالمحبة والوداد، الذين سقوا اپنے خونوں سے ملت کے باغ کی آبیاری کی۔بستان الملة بدماء هم، وهدموا اور اپنے بنانے والے کی رضا کی خاطر اپنے وجود بنيان وجودهم لإرضاء بنائهم۔کی بنیادوں کو مسمار کیا، اور وہ لوگ جنہوں نے دنیا والذين تلطخوا بأدناس الدنيا کی آلائشوں، اس کے گند اور اس کی پلیدی سے ورجزها وقذرها، أولئك قوم اپنے آپ کو آلودہ کر لیا، یہی وہ قوم ہیں جن کی اس كثروا في هذا الزمان، وإنهم زمانے میں کثرت ہے۔وہ اپنے تقویٰ کو کھو چکے فقدوا تقواهم وأغضبوا مولاھم ہیں اور انہوں نے انواع و اقسام کے گناہوں سے بأنواع العصيان۔وترى كثيرًا اپنے مولا کو غضبناک کیا ہے۔تو دیکھتا ہے کہ ان منهم شغفهم حب الأموال میں سے اکثر کے دلوں میں اموال، املاک اور والأملاك والنسوان وأقسى عورتوں کی محبت گھر کر گئی ہے۔سیم وزر کے عشق نے قلوبهم لوعةُ الفضة والعقیان ان کے دل سخت کر دیئے ہیں۔انہوں نے دنیا کے ودسوا نفوسهم بهمومها بعد ما غموں میں اپنے نفسوں کو مٹی میں ملا دیا۔بعد اس کے جلت مطلعها نور الاسلام کہ اسلام اور ایمان کے نور نے ان کے مطلع کو روشن والإيمان۔وإذا رأوا بعض أمور کر دیا تھا۔جب وہ اپنے بعض دنیاوی معاملات کو دنياهم غير المنتظم أخذهم غير منتظم پاتے ہیں تو دبا ہوا کرب و بیقراری ان کے الضجـر بــالــظم، ولا يبالون | دامن گیر ہو جاتا ہے۔وہ اپنے دین کی کوئی پرواہ