لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 11 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 11

لُجَّةُ النُّور 11 اردو ترجمہ سے لأولى الأبصار وكذالك لئے عبرت ہے ۔ اسی طرح ہمارے آباؤ اجداد صبت على آبائنا المصائب پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹ پڑے اور پے در پے وتواترت النوائب، حتى انتهی تکالیف آئیں ، حتی کہ معاملہ یہاں تک پہنچ گیا الأمر إلى أنهم عُطّلوا من إمارتهم كه وه اپنی امارت اور سیاست سے معطل کر وسياستهم، وأُخرجوا من دار دیئے گئے اور اپنی ریاست کے علاقہ سے رياستهم ۔ فلبثوا في دار غربتهم نکالے گئے ۔ پھر انہوں نے ساٹھ سال کے ۱۰ إلى مدة نحو ستين أعوام ، حتى قریب مدت بے وطنی کی حالت میں گزاری ، إذا ماتت الأعداء الذين وقعت یہاں تک کہ جب وہ دشمن مر گئے جن کی وجہ بهم محاربات، وجهل الناس لڑائیاں ہو رہی تھیں اور لوگوں نے حقيقة الواقع، رجعوا إلى الوطن واقعات کی حقیقت کو فراموش کر دیا تو وہ چھپتے متوارین مستورين، بما كانت چھپاتے اپنے وطن کی طرف لوٹ آئے الخالصة قوما ظالمين جاهلین کیونکہ سکھ ایک ظالم اور جاہل قوم تھی ۔ وہ يسفكون الدماء على أدنى عثار ایک چھوٹی سی لغزش پر بھی خون ریزی کرتے ولم يكن أمن من أيديهم لا فی تھے ۔ ان کے ہاتھوں نہ رات کو امن تھا نہ ليل ولا في نهار ۔ وإذا انقضى دن کو ۔ جب سکھوں کی حکومت کا زمانہ ختم ہوا عهد دولة الخالصة، وجاء عهد اور انگریزی سلطنت کا زمانہ آیا تب ہمیں الدولة الإنكلزية، نجينا من اس مصیبت سے نجات ملی اور اس ظالم گروہ تلك المصيبة، ولم يبق إلا كے صرف قصے ہی باقی رہ گئے ۔ اس عدل قصص من تلك الفئة الظالمة پسند گورنمنٹ کی بدولت ہماری عزتیں، وحفظت بهذه الدولة العادلة ہمارے خون اور ہمارے اموال محفوظ ہو گئے أعراضنا ودماؤنا وأموالنا، اور ہم گزرے دنوں میں جو ہم پر بیتی وہ سب ونسينا كل ماجرای علینا فی بھول گئے ۔ اور بے شک یہ حکومت اس ملک کے