لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 10 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 10

لُجَّةُ النُّور ۱۰ اردو ترجمہ الملوك غير تابعين لأحد من حکومت میں خود مختار ہو گئے ۔ پس اُن دنوں دول، والمختارين فى الحكومة ۔ ہماری کھوئی ہوئی ریاست کچھ وقت کے ففي تلك الأيام رجعت إلينا لئے دوبارہ ہمارے پاس لوٹ آئی اور ہم دولتنا المفقودة إلى أيام، وكنا امن و سلامتی کے ساتھ راحت کی کمان سے نرمى عن قوس المراح خوشیوں کو نشانہ بنا رہے تھے اور مسرت اور إلى غرض الأفراح بأمن وسلام آرام کی زندگی بسر کر رہے تھے ۔ ہم اس وعشنا عيشة السرور والراحة حالت میں اس وقت تک رہے جب تک ولبثنا على ذالك إلى مدة أراد خدائے ذوالجلال والاکرام نے چاہا۔ پھر الله ذو الجلال والعزة ۔ ثم طلع مشرکین ہند جنہیں خالصہ (سکھ ) کے نام نجم إقبال مشركي الهند الذين سے پکارا جاتا ہے ان کا ستارہ اقبال طلوع سموا بالخالصة فعصفت بنا ہوا۔ پس ان دنوں ہم پر حوادث کی ريح الحوادث في تلك الأيام، آندھیاں چلیں اور جو خیمے ہم نے نصب کیے وقلع ما خيمنا بصراصر جور تھے وہ ان اقوام کے ظلم کی تند و تیز ہواؤں هذه الأقوام، وصار الأمن محرما سے اُکھڑ گئے اور امن اس طرح حرام ہو گیا كصيد حرم البيت الحرام جیسے حرم خانہ کعبہ میں شکار کرنا حرام وبَذْناعُلَقَنا وعلاقتنا ہے۔ چنانچہ با مرمجبوری ہمیں اپنا نفیس مال اور بالاضطرار، وخلسها الخالصة علاقہ چھوڑنا پڑا اور خدائے قہار کی تقدیر کے بقدر الله القهار، فرم آباؤنا نُوق مطابق سکھوں نے اسے لوٹ لیا ۔ پس ہمارے نفوسهم بزمام الاصطبار، وما آباؤ اجداد نے اپنے نفسوں کی اونٹنیوں کو صبر کی كادوا يعجزون من المشركين لگام دی۔ وہ اپنی جنگوں میں مشرکوں سے في حروبهم ولكن القدر مغلوب ہونے والے تو نہ تھے لیکن تقدیر نے أعجزهم وكان في ذالك عبرة انہیں عاجز کر دیا۔ اس میں اہل بصیرت کے