لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 9 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 9

لجَّةُ النُّور ۹ اردو ترجمہ مَلِكَ الهند "بابر"، ويسألوا عنه انہیں اپنے اکابر ( مصاحبین ) میں شامل کر أن يُدخلهم في أكابر ، فوجدوا ما لے۔پس خدائے رحیم کے فضل سے انہوں قصدوا من فضل الله الرحیم نے اپنے مقصد کو پا لیا اور وہ اس معز ز بادشاہ وانتظموا فى أمراء هذا المَلِكِ کے امراء کے ساتھ منسلک ہو گئے۔اس کے الكريم۔ثم بدء لهم أن يتخذوا بعد ان لوگوں ( کے دل ) میں آیا کہ اس ملک وطنهم هذه الديار، وأُعطوا قُری کو ہی اپنا وطن بنالیں۔اور انہیں سلطنت مغلیہ كثيرة من السلطنة المُغْلِيّة کی جناب سے بہت سے گاؤں ، املاک اور والأملاك والعقار، ونسوا أيام جاگیریں عطا کی گئیں۔اور وہ بے وطنی کے الغربة والهموم والأفكار۔و برے دن اور سب ہم وغم بھول گئے۔وہ اسی بينا هم في ذالك إذ قُلبَتُ أمورُ حالت میں تھے کہ اچانک سلطنت مغلیہ کے السلطنة المُغْليّة، وظهر الفساد معاملات زیروز بر کر دیے گئے ، اور سرحدوں في الشغور، وما قدر الدولة ان پر فساد برپا ہو گیا۔اور حکومت میں اتنی طاقت تحامى عن الرعايا تطاول نہ تھی کہ وہ مفسدوں ظلم کرنے والوں اور المفسدين والخلسة، وكثر چوروں اُچکوں کی دست درازی سے رعایا کی سفك الدماء وبتك الرقاب، حفاظت کر سکے۔خونریزی، گردن زدنی، ونهب الأموال وهتك اموال لوٹنا اور ( عزت کے ) پردوں کو چاک الحجاب، واستصعب الانتظام کرنا بہت بڑھ گیا ، نظام چلانا مشکل ہو گیا ، وزادت الكروب والآلام۔دکھ اور تکالیف بہت بڑھ گئیں۔پس دولت مغلیہ فترك الدولة المغلية هذا القدر سلطنت میں اپنا مقام کھو بیٹھی اور اس ملک کے من المملكة، وخُلّص أعناق امراء کی گردنیں اطاعت کے جوئے سے نکل أمراء هذه الديار من ربقة گئیں اور وہ کسی بھی حکومت کی اتباع نہ کرتے الإطاعة، وصاروا كطوائف ہوئے طوائف الملوکی کی طرح آزاد اور