لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 126

لُجَّةُ النُّور ۱۲۶ اردو ترجمہ من المحسنات الحذاق، اور شہرہ آفاق عورتوں سے نغمے سننے کی طرف والموصوفات في الآفاق، وإذا مائل ہو گئے ۔ اور جب سامان کم ہو گیا اور قل البعاعُ، وخف المتاع، وفرّ سرمایہ ختم ہونے لگا اور سفلہ ہم نشین بھاگ گئے الرعاع وفرغ الجراب، وغُلّق اور جیب خالی ہوگئی اور (ان پر ) دروازے بند کر الأبواب، نهضوا للوعظ دیئے گئے تو صوفیاء کے اشعار کا پھندا لئے وعظ و والنصيحة مع حبالة من أشعار نصیحت کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے تا مال و الصوفية، لتعود إليهم أيام دولت کے ایام اُن کی طرف پھر لوٹ آئیں ۔ تو الثروة و الجدة و تراهم فی انہیں دیکھے گا کہ وعظ کی مجلسوں میں طاعون زدہ مجالس الوعظ يتصرخون و اونٹ کی طرح چلاتے اور بلبلاتے ہیں حالانکہ يُرغون كبعير أَغَدَّ ، وفى القلب دل میں آسودگی کو یاد کر رہے ہوتے ہیں، اور يذكرون الجد، والدموع قرَّحتِ آنسو رخساروں کو زخمی کر رہے ہوتے ہیں، پس الخد۔ فالعامة يزعمون أنهم عام لوگ یہ خیال کرتے ہیں کہ وہ جزا سزا کے يبكون مخافة يوم المكافأت دن کے خوف سے رورہے ہیں جیسا کہ یہ متقیوں كما هو من سير أهل التقاة کی سیرت ہے۔ باوجود یکہ وہ تو صرف شراب مع أنهم لا يبكون إلا بفراق اور ہم پیالہ نازک بدن عورتوں کی جدائی سے بقية الحاشية - وكذالك كان بقیہ ترجمہ ۔ اسی طرح میرے گاؤں کے قریب عالم آخر قريبا من قریتی و کان ایک اور عالم تھا وہ میرے رتبہ کا انکار کیا کرتا تھا۔ پس ینکر برتبتی فشرب الخمر فی اُس نے ایک کافر کی مجلس میں شراب پی جو اسلام سے مجلس كافر يهوى الإسلام فلعنه رغبت رکھتا تھا۔ تو کافر نے اُسے لعنت ملامت کی اور الكافر ولام۔ وقال إن كان هؤلاء هم کہا اگر ائمہ اسلام ایسے لوگ ہی ہیں تو میرا کفر میری أئمة الإسلام۔ فكفرى خير لدنياى من دنیا کے لئے بہتر ہے۔ بجائے اس کے کہ میں ان أن الحق بهذه اللئام۔ منه - کمینوں میں شامل ہو جاؤں ۔ منہ