لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 116 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 116

لُجَّةُ النُّور ١١٦ اردو ترجمہ قطعه الجوع بمداه۔ يتجشم اور اُس کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو خواہ لأجل الأكابر أُكلا، ويُهيّأ لهم بھوک اُسے اپنی چھریوں سے کاٹ رہی ہو۔ وہ كل ما يؤكل ولا يراهم على بڑے لوگوں کے کھانے کے لئے تکلف کرتا ہے نفسه كلا بل يجمع لهم من اور ان کے لئے ہر قسم کا کھانا مہیا کرتا ہے، اور انہیں ١٠٩ جميع الألوان مآكل، وإن اپنے نفس پر بوجھ نہیں سمجھتا بلکہ ان کے لئے قسما قسم هاضت الأكل۔ ويسوم کے کھانے تیار کرتا ہے خواہ کھانے والے کو ہیضہ ہی التكليف في سبل الرياء ہو ہو جائے جائے۔ ۔ ریا کی راہوں میں تکلیف برداشت کرتا ولا يُعطى السائل ما حضر من ہے۔ اور رات کے کھانے سے جو موجود ہو سوالی کو العشاء ولا ينظر بخُلقٍ سَبْط نہیں دیتا۔ اور بھوکے کی طرف خوش خلقی سے إلى ذى مجاعة، ويسبّ السائل نہیں دیکھتا۔ وہ سائل کو گالیاں دیتا اور مارتا ہے اگر ويضرب إن وقف إلى ساعة وہ ایک گھڑی بھی کھڑا رہے۔ وہ یہ نہیں دیکھتا کہ ولا يرى أن السائل جاء ه فی لیل سوالی اس کے پاس اندھیری رات میں آیا ہے اور دجى، و قصده علی ما به من اس کو جو تکلیف اٹھا کر اس کے پاس آیا ہے اور الوجي ، وظنه مضيفًا يعطى اسے ایسا مہمان نواز سمجھتا ہے جو خدائے لطیف رغيفا، ويخاف ربا لطيفا سے ڈر کر اسے روٹی دے دے گا۔ پس وہ اسے فيدعه من بيته ولا يرحمه مع اپنے گھر سے دھکے دیتا ہے اور یہ علم رکھنے ۔ علمه على عدم موئل ، و إن كان با وجود کہ اس کا کوئی ٹھکانہ نہیں اس پر رحم نہیں کرتا ما ذاق مذ يومين طعم مأكل وما خواہ اس نے دو دن سے کھانے کا ذائقہ نہ چکھا يفكر في أن الغريب أين يذهب ہو، اور یہ بھی نہیں سوچتا کہ یہ غریب بے چارہ في ظلام مسبل، وما يفعل عند تاریک و تار رات میں کہاں جائے گا اور درد اور تألم وتَمَلْمُلٍ۔ فالحاصل أن اضطراب کے عالم میں کیا کرے گا۔ حاصل کلام یہ المواساة قد قلت، و مصائب که غمخواری کم ہوگئی ہے اور کمزوروں کی مصیبتیں کے