لُجَّةُ النّوْر

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 131 of 150

لُجَّةُ النّوْر — Page 131

لجة النُّور ۱۳۱ اردو ترجمہ شوطهم أو ينشروا عَجُوةً أو دکھاتے یا اپنی زنبیل میں سے اچھی یا رڈی کھجوریں نَجُوة من نوطهم فحاصل الكلام (یعنی اپنے اعلیٰ یا ادنی کلام کا کوئی نمونہ ) پیش بقية الحاشية الناسُ فيه فما بقیہ ترجمہ۔لوگوں نے اس میں اختلاف تو کیا۔أرواكمثله من شجرة۔له حلاوة و لیکن اس جیسا کوئی خوش نما درخت نہ دکھا سکے جس عـلـيـه طـلاوة، ولا يبلغ وَهُفَه نبت کی ایسی حلاوت اور ملاحت ہو۔کوئی روئیدگی اس ولو كمل فی اهتزاز و خضرة کی سرسبزی و شادابی کو نہیں پہنچ سکتی۔خواہ وہ تر و تازگی والذي يطلب لمعانه من كلام غيره اور سر سبزی میں کمال درجہ تک پہنچی ہوئی ہو۔من الكائنات۔فليس هو إلا كرجل جو شخص اس کا ئنات میں اس کے سوا کسی دوسرے يريد أن يـلـفـو الـلـحم من العظام كلام سے وہی روشنی طلب کرتا ہے تو وہ ایسے شخص المقبورة الرفاتِ۔فالحق والحق کی طرح ہے جو قبروں میں دبی ہوئی ریزہ ریزہ أقول إنه لا يوجد کتاب بین ہڈیوں سے گوشت حاصل کرنا چاہتا ہے۔پس حق الدفتين كمثل كتاب ربّنا رب یہ ہے اور حق ہی میں کہتا ہوں دونوں جہانوں الكونين۔فكما أن الكمال من کل کے پروردگار ہمارے خدا تعالیٰ کی کتاب جیسا جهة مخصوص بحضرة الكبرياء۔کوئی نسخہء کتاب نہیں پایا جاتا۔پس جیسا کہ فكذالك الحسن من جميع ہر جہت سے کمال صرف حضرت کبریاء سے مخصوص الأنحاء مختص بهذه الصحف ہے پس اسی طرح حسن ہر پہلو سے اسی روشن صحیفہ الغراء۔وأما الذى هو دونه فهو لا سے مخصوص ہے۔مگر جو بھی اس کے علاوہ ہے وہ يخلو من عيب ونقصان۔وإن كان عیب اور نقص سے خالی نہیں خواہ وہ نابغہ كلام النابغة أو سحبان۔فإن وجدتَ ذُبْيَانِي) ياسَحُبَان ( وَائل) کا کلام ہو۔مثلا فقرةً من كلمات أحدٍ منهم اگر تو مثلاً ان میں سے کسی کے کلمات میں سے ایک كخد أبرق و أملس، فتجد فقرة فقره چمکدار اور نرم رخسار کی طرح پائے گا تو دوسرا أخرى كأنف أصغر وأفطس فقرہ چھوٹے اور چیٹے ناک کی طرح پائے گا۔