لباس — Page 88
90 2- بعض خاوند بھی یتیمی جیسی زندگی گزار رہے ہیں میاں بیوی کے حقوق و فرائض : د بعض مرد کہتے ہیں کہ ہمارا بھی تو ذکر کرو۔ہم پر بھی تو ظلم ہوتا ہے اور ایسے بیچارے لوگ ہیں جو واقعہ گھر سے باہر زندگی زیادہ سے زیادہ کاٹتے ہیں کیونکہ گھر جانا ان کے لئے مصیبت بن جاتا ہے۔اسی ضمن میں ایک لطیفہ بھی بیان ہوا ہے کہ ایک شخص اپنے دوست کو بتارہا تھا کہ میرا کتنا کام ہے اس نے کہا دیکھو اتنے گھنٹے میں دفتر میں صرف کرتا ہوں ، اتنے گھنٹے فلاں دوکان پر ملازمت کرتا ہوں، اتنے گھنٹے فلاں کام کرتا ہوں، اتنے گھنٹے فلاں جگہ کام کرتا ہوں تو گھر کے لئے دو چار گھنٹے صرف بچتے تھے تو اس نے بڑے تعجب سے کہا کہ تمہیں آرام کا کوئی وقت نہیں ملتا۔اس نے کہا یہی تو آرام کا وقت ہے جو گھر سے باہر میں خرچ کرتا ہوں وقت۔یہی تو میرے آرام کا وقت ہے گھر تو ایک عذاب ہے۔تو ایسے لوگ بھی ہیں بیچارے جن کی بیویاں ظالم ہوتی ہیں اور ان کے لئے گھر جانا ایک مصیبت بن جاتا ہے۔۔۔۔ہمارے اپنے تجربے میں بھی ایسے بہت سے احباب ہیں جن کا یہی حال ہے بیچاروں کا۔لیکن میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اس میں عورت خوش کبھی نہیں رہتی اس لئے یہ نصیحت میں خاوندوں کو کرنے کی بجائے عورتوں کو کر رہا ہوں۔خاوند بے چارے تو بے اختیار ہیں۔اب ان کے ہاتھ سے معاملہ آگے نکل گیا ہے، کچھ بھی نہیں کر سکتے سوائے یتیمی کے رونے کے ان کے پلے کچھ نہیں رہا باقی ، لیکن عورتوں کو خود اپنا محاسبہ کرنا چاہئے۔میں نے گہری نظر سے مطالعہ کیا ہے ایسی عورتیں کبھی بھی خوش نہیں رہتیں۔نہ ان کی اولادیں خوش رہ سکتی ہیں نہ ان کی اولادوں کی تربیت ہو سکتی ہے۔کیونکہ خدا تعالیٰ نے مردوں کو قوام بنایا ہے جس کسی عورت کا مرد قوام نہ ہو وہ اس طرح اندرونی