لباس — Page 75
77 میاں بیوی کے حقوق و فرائض ایک دفعہ حضرت عائشہؓ نے حضرت عثمان بن مظعون کی اہلیہ کو سادہ کپڑوں اور بناؤ سنگھار کے بغیر دیکھا تو حضرت عائشہ کو بہت تعجب ہوا اور پوچھا کہ کیا عثمان کہیں باہر سفر پر گئے ہوئے ہیں۔گویا حضرت عائشہ (جن کے بارہ میں کہا گیا کہ نصف علم حضرت عائشہ سے سیکھیں) یہ درس دینا چاہتی تھیں کہ عورت کا اپنے گھر میں خاوند کے لئے بناؤ سنگھار کر کے رہنا بہت ضروری ہے۔آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کوئی عورت اس وقت تک خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے والی نہیں سمجھی جاسکتی جب تک کہ وہ اپنے خاوند کے حق ادا نہیں کرتی۔(ابن ماجہ ) حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے اس حدیث کی بہت پر معارف تشریح فرمائی ہے جو نصیحت آموز اور سبق آموز بھی ہے۔وہ عورتوں کی خاطر یہاں درج کرنی ضروری ہے۔آپ فرماتے ہیں : یہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو عورت اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی وہ خدا کا حق بھی ادا نہیں کر سکتی اس میں دو گہری حکمتیں ہیں اول یہ کہ خواہ درجہ کا کتنا ہی فرق ہو، یہ دونوں حقوق در اصل ایک ہی نوعیت کے ہیں مثلاً جس طرح خدا اپنے بندوں سے انتہائی محبت کرنے والا ہے اسی طرح خاوند کو بھی اپنی بیوی کے متعلق غیر معمولی محبت کا مقام حاصل ہوتا ہے اور جس طرح باوجود اس محبت کے خدا اپنے بندوں کا حاکم اور نگران ہے اسی طرح خاوند بھی بیوی کی محبت کے باوجود گھر کا نگران اور قوام ہوتا ہے پھر جس طرح خدا اپنے بندوں کا رازق ہے اور