لباس — Page 64
آپ کی عائلی زندگی : 66 میاں بیوی کے حقوق و فرائض مرحوم و مغفورآ قا حضرت خلیفة اصبح الرابع حمہ اللہ کے کر دار پر جب ہم نگاہ ڈالتے ہیں اور کردار اُن کی عائلی زندگی کو دیکھتے ہیں تو وہ ہمیں اس دُنیا میں ایک جنت نظر آتی ہے۔بعض گھرانوں میں میاں کے بیوی کے ساتھ تعلقات اس وجہ سے خراب ہو جاتے ہیں کہ بیٹیاں ہی بیٹیاں ہیں۔نرینہ اولاد نہیں۔مگر ہمارے آقا کا اُسوہ وہ اُسوہ ہے جو آقا ومولیٰ حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا تھا۔اپنی بچیوں سے بے انتہا پیار کرتے اور احادیث کے مطابق ان کی اصلاح اور دینی تعلیم کو جنت کا ایک رستہ تصویر فرماتے۔میں جب 1983ء میں سیرالیون خدمات دینیہ کے لئے روانہ ہونے سے قبل اپنے اہل خانہ کے ساتھ ملاقات کے لئے دربارِ خلافت میں حاضر ہوا تو حضور نے میری نومولود بچی جو ابھی ایک ڈیڑھ ماہ کی تھی گود میں اٹھا لیا اور پیار کرنے لگے۔میری اہلیہ محترمہ فرط جذبات میں بہہ گئیں اور آنکھوں میں آنسو آگئے، جسے حضور نے دیکھتے ہوئے فرمایا کہ فردوس ائم تین بچیوں کی وجہ سے رورہی ہو۔میری چار بچیاں ہیں۔میں تو کبھی نہیں رویا بلکہ ہمیشہ خدا تعالیٰ کا شکر ادا کیا ہے۔آپ خود اپنی بچیوں کے ساتھ کھیل کو دکا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں : " ہم اکٹھے کھیلتے۔ایک دوسرے کو بھاگ کے پکڑتے۔درختوں پر چڑھنے کے مقابلے "ہما۔ہوتے۔آنکھ مچولی کا کھیل بھی ہوتا۔جب بچیوں سے کھیلتا تو یوں لگتا جیسے میں ان کا ہم عمر ہوں۔ی کھیل میرے لئے کیا تھے تفریح کی تفریح اور آرام کا آرام اور دلی مسرتوں کا خوان یغما۔(ایک مرد خدا صفحہ 128)