لباس — Page 51
53 میاں بیوی کے حقوق و فرائض خانہ سے کرنی چاہئے۔کس قدر آپ شدت رکھتے ہیں۔آپ کو ) ہر یک وقت دل میں یہ خیال کرنا چاہئے کہ میری بیوی ایک مہمان عزیز ہے جس کو خدا تعالیٰ نے میرے سپر د کیا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ میں کیونکر شرائط مہمان داری بجالاتا ہوں اور میں ایک خدا کا بندہ ہوں اور یہ بھی ایک خدا کی بندی ہے مجھے اس پر کون سی زیادتی ہے۔خونخوار انسان نہیں بننا چاہئے۔بیویوں پر رحم کرنا چاہیئے اور ان کو دین سکھلانا چاہئے در حقیقت میرا یہی عقیدہ ہے کہ انسان کے اخلاق کے امتحان کا پہلا موقعہ اس کی بیوی ہے۔میں جب کبھی اتفاقا ایک ذرہ درشتی اپنی بیوی سے کروں تو میرا بدن کانپ جاتا ہے کہ ایک شخص کو خدا نے صد با کوس سے میرے حوالہ کیا ہے۔شاید معصیت ہوگی کہ مجھ سے ایسا ہوا۔تب میں ان کو کہتا ہوں کہ تم اپنی نماز میں میرے لئے دعا کرو کہ اگر یہ امر خلاف مرضی حق تعالیٰ ہے تو مجھے معاف فرما دیں اور میں بہت ڈرتا ہوں کہ ہم کسی ظالمانہ حرکت میں مبتلا نہ ہو جائیں۔سو میں امید رکھتا ہوں کہ آپ بھی ایسا ہی کریں گے۔ہمارے سیدو مولی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس قدرا اپنی بیویوں سے علم کرتے تھے۔زیادہ کیا لکھوں۔“ ( تفسیر حضرت مسیح موعود سورۃ النساء جلد دوئم صفحہ 230) میاں بیوی دو بچے اور حقیقی دوست : وو حضرت مسیح موعود عورتوں کے حقوق کے متعلق فرماتے ہیں : چاہئے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو بچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔“ ( ملفوظات جلد سوئم صفحہ 300)