لباس — Page 96
عورتوں کا نُشُور : 98 میاں بیوی کے حقوق و فرائض اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء کی آیت نمبر 35 میں عورتوں کے نشوز کا جہاں ذکر کیا ہے اس سے مراد عورت کا اپنے خاوند سے بغض اور اپنے کو اُس کی اطاعت سے بالا سمجھنا ہے۔اور ابن کثیر میں ناشزہ اس عورت کو کہا گیا ہے ”جو اپنے شوہر پر بلندی چاہے۔اس کا حکم نہ مانے۔اُس سے بے رخی کرے اور اس سے بغض رکھے۔“ حضرت خلیفہ المسیح الرابع نے اپنے ترجمہ قرآن کریم میں اس کے معنی عورتوں کے باغیانہ رویے اور روش کے کئے ہیں اور ایسی عورتیں جو ” کے قرآنی مفہوم پر عمل نہیں کر رہی ہوتیں ان سے برتاؤ کے بارہ میں foot note میں تحریر فرمایا ہے : وو " الرِّجَالُ قَوَمُونَ کا ایک ظاہری معنی تو یہ ہے کہ مرد عموماً عورتوں سے زیادہ مضبوط اور ان کو سیدھی راہ پر قائم رکھنے والے ہوتے ہیں۔اگر مرد قومون نہیں ہوں گے تو عورتوں کے بہکنے کے زیادہ امکان ہے۔دوسرا یہ کہ وہ مرد قوم ہیں جو اپنی بیویوں کے خرچ برداشت کرتے ہیں۔وہ نکھٹو جو بیویوں کی آمد پر پلتے ہیں وہ ہر گز قوم نہیں ہوتے۔آیت کے آخری حصہ میں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ اگر تم قوم ہو اور اس کے باوجود تمہاری بیوی بہت زیادہ باغیانہ روح رکھتی ہے تو اس صورت میں یہ اجازت نہیں کہ اس کو فوری طور پر بدنی سزا دو بلکہ پہلے اسے نصیحت کرو۔اگر نصیحت سے نہ مانے تو ازدواجی تعلقات سے کچھ عرصہ تک احتراز کرو۔در اصل یہ سز اعورت سے زیادہ مرد کو ہے ) اگر اس کے باوجود اس کی باغیانہ روش دُور نہ ہو تو پھر تمہیں اس پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت ہے مگر اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا