لباس — Page 95
عورت کا رویہ : 97 میاں بیوی کے حقوق و فرائض عورت پر خاوند کی اطاعت لازم ہے جو اولوالامر منکم کے زمرہ میں آتا ہے۔عورت جب بیاہ کے اپنے گھر جا رہی ہوتی ہے تو دراصل ایک پودا کو، ایک بیل کو اُکھاڑ کر دوسری جگہ پر منتقل کیا جارہا ہوتا ہے۔جس کی دیکھ بھال اور آبیاری کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔اُسے نئی زمین کی خاصیت اختیار کرنے اور اُس میں رچ بس جانے کے لئے تعاون کی ضرورت ہوتی ہے جو اُس کے والدین اور سسرال دونوں کی طرف سے باہم میسر آنا ضروری ہے۔تا وہ اپنی جڑیں مضبوط کرے۔اُدھر تو بیا ہتی دلہن کو بھی چاہئے کہ خود کو سر ال سا بنالے۔نہ کہ سسرال کو اپنے جیسا بنانے کی کوشش میں اپنے آپ کو بھی اور اپنی آئندہ اولاد کو بھی نقصان پہنچائے مگر بسا اوقات عورت حاکم اہلی بنے کی کوشش میں خاوند کے سر پر بھوت کی طرح سوار رہتی ہے۔اس سلسلہ میں حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ فرماتے ہیں : دد بعض عورتیں اس رنگ میں اپنے مردوں سے تعلقات قائم کرتی ہیں کہ گویا وہ بہتر معاشرہ سے آئی ہیں وہ زیادہ تعلیم یافتہ ہیں وہ زیادہ باتوں کو بجھتی ہیں۔مرد میں نقائص ہیں اس کے باوجود انہوں نے قبول کر لیا۔مرد کا خاندان نسبتا ہلکا ہے اس کے باوجود وہ شہزادی ان کے گھر آگئی وہ یہ باتیں منہ سے کہیں نہ کہیں ان کی طرز عمل بتارہی ہوتی ہے کہ میں اونچی ہوں تم نیچے ہو اور وہ نیچے پھر ہمیشہ کے لئے واقعہ نیچے ہو جاتے ہیں۔“ (خطاب فرموده سیدنا خلیفہ مسیح الرابع بر موقعہ صد سالہ جلسہ سالانہ بمقام قادیان 1991ء)